20

پاکستان میں کورونا سے بچا ئوکے مکمل انتظامات ہیں، ڈاکٹر ظفر مرزا

اسلام آباد(سی این پی)وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے چین میں موجود پاکستانی طلبا میں چند روز کے دوران تشویش بڑھی ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کا اجلاس غوث محمد نیازی کی زیر صدارت ہوا جس میں معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ اس وقت تک ملک میں کورونا وائرس کا ایک بھی مریض نہیں ہے، پاکستان میں کورونا وائرس سے بچائو کے لیے انتظامات مکمل ہیں اور اسلام آباد ائیرپورٹ پر مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔چین کے شہر ووہان میں پھنسے پاکستانی طالبعلموں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ وہاں رہنے والے پاکستانیوں کا پورا خیال کیا جا رہا ہے، مزید پاکستانیوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا۔ظفر مرزا نے بتایا کہ چین سے پاکستان کے لیے فلائٹ آپریشن معطل نہیں کیا گیا بلکہ پاکستان میں رسک دیکھ کر اقدامات کیے گئے، سوچنے سمجھنے کے بعد فلائٹ نہ بند کرنے کا اعلان کیا۔لاہور اسلام آباد میں چین سے فلائٹ آرہی ہیں لیکن کچھ فلائٹ پر کنٹرول کیا ہے اور چینی حکومت سے معاہدہ ہوا ہے کہ ووہان سے آنے والے ہر شخص کو 14 دن کورونا کے حوالے سے کورس کر کے آنے دیا جائے۔ان کا کہنا تھا 23 جنوری کو اس حوالے سے بتا دیا تھا کہ یہ وائرس خطرناک ہو سکتا ہے، چینی حکومت کسی کو بھی اجازت نہیں دے رہی کہ ووہان سے کوئی بھی شخص دوسرے ملک جائے۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ 620 طلبا ووہان میں موجود ہیں، تمام طالب علموں سے رابطے میں ہیں، طلبا بہت پریشان ہیں، میں نے اور زلفی بخاری نے 16 طلبا کے ساتھ بات کی، گزشتہ تین سے چار روز سے طلبا میں تشویش زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ جن ہو میڈیکل یونیورسٹی میں پاکستانی طلبا پڑھ رہے ہیں اور یونیورسٹی کے قریب مریضوں کو رکھا گیا ہے جس پر تشویش میں اضافہ ہوا۔ان کا کہنا تھا چینی حکام سے رابطہ کیا اور انہیں مریضوں کو کہیں اور منتقل کرنے کو کہا لیکن آئسولیشن بلاک میں موجود مشتبہ مریضوں سے ہمارے طلبا کو خطرہ نہیں ہے۔معاون خصوصی نے بتایا کہ ائیر پورٹس پر اسکریننگ ہو رہی ہے، تمام لوگوں سے ڈکلیریشن فارم بھروانے اور فون نمبر لینے کے بعد گھروں کو جانے دے رہے ہیں، پی ٹی اے میسج کے ذریعے بھی لوگوں کو وائرس کے بارے میں بتا رہی ہے۔اجلاس کے دوران ممبر کمیٹی اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر بہرہ مند تنگی چین میں موجود اپنے بھتیجے کی بات کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے۔بہرہ مند تنگی کا کہنا تھا میرے بھتیجے نے بتایا کہ یونیورسٹی کے چار میں سے تین گیٹ بند ہیں، ہمارے5 پی ایچ ڈی کے طلبا ہیں جن میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی لیکن اب ان کی طبیعت بہتر ہو رہی ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے اجلاس کو بتایا کہ کورونا وائرس سے اموات کم ہوتی ہے، 98 فیصد لوگ مکمل صحت یاب ہو جاتے ہیں اور دو فیصد متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ 625 چینی طلبا اسلامی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں، ہمیں ان کی آمد و رفت کا بھی علم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں