27

گزشتہ حکومت میں بجلی کی قیمت نہ بڑھانا اور قرض لینا مہنگائی کی وجوہات ہیں،حفیظ شیخ

اسلام آباد(سی این پی)مشیر خزانہ عبدالحفیظ نے کہا ہے کہ گزشتہ حکومت میں جان بوجھ کر بجلی کی قیمت نہ بڑھانا اور قرض لینا مہنگائی کی وجوہات ہیں۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے حفیظ شیخ نے کہاکہ معیشت کے استحکام کیلئے داخلی سلامتی ضروری ہے، اس ملک کا بڑا المیہ ہے کہ کوئی وزیراعظم اپنی مدت مکمل نہیں کرسکا۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ہماری آنکھوں کے سامنے ترقی کی، ان سب نے دنیا کے ساتھ مل کر ایسا طریقہ ڈھونڈا کہ وہ اپنی چیزیں وہاں بیچیں اور ایسا ماحول پیدا کیا کہ دوسرے ممالک کے لوگ یہاں آکر بزنس کریں۔حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایسے دور آئے جب معیشت کی رفتار تیز ہوئی لیکن یہ رفتار تین چار سال سے زیادہ نہیں چل پائی، ہمیں یہ سوچنا ہے کہ ملک میں ایسی کیا چیز ہے کہ ہم بڑی گروتھ ریٹ لے تو سکتے ہیں لیکن اسے مسلسل نہیں چلاسکتے۔مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت نے کرنسی کو فکس کیا اس کو روکنے کے لیے ڈالرز کو پھونکا جاتا ہے اور ڈالرز پھونکے گئے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 2016 اور 2018 میں ہمارے زرمبادلہ آدھے سے بھی کم ہوئے، جو 18 ارب سے 9 ارب ڈالر تک آگئے، گزشتہ حکومت میں آمدن سے زیادہ خرچ کیے گئے، پاکستان کا بحران یہ ہے کہ ہمارے پاس ڈالرز نہیں ہیں، ہم نے قرض بھی ڈالرز میں لیے ہیں، ہم ڈالرز ختم کرتے چلے جارہے ہیں اور اپنا قرض ڈالرز میں بڑھارہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ کہا جاتا ہے ماضی کی بات نہ کریں، کئی بار ماضی حال مستقبل جڑے ہوتے ہیں، جو ماضی میں ہوتا ہے اس کے اثرات حال میں بھی ہوتے ہیں اور جو حال میں ہوتا ہے اس کے اثرات مستقبل میں بھی ہوتے ہیں، جب حکومت آئی تو پہلی چیز جو مسائل کی جڑ ہے وہ 30 ہزار ارب کا قرض تھا، 95 ارب ڈالر کے قرض اور 20 ارب کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ تھا جب کہ 5 ہزار ارب قرض واپس کرنا تھا، کرنٹ اکائونٹ خسارہ سب سے زیادہ ملا جس سے معیشت کو خطرہ تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا نظام چل رہا تھا جس میں ڈالرز کو جان بوجھ کر سستا رکھا گیا، پچھلے 5 سال ایکسپورٹ کی رفتار زیرو تھی، لوگ امپورٹس کی جانب مائل ہوئے، ہر طرح کی چیز بیرون ملک سے آئی اس طرح ایکسپورٹ والے لوگوں کو نقصان ہوا۔حفیظ شیخ نے کہا کہ میرا بنیادی مقصد تنقید کرنا نہیں بلکہ حقائق کو بتانا ہے، یہ چیلنج اس حکومت کے لیے ہے، یہ عین ممکن ہے درست اقدامات نہ کیے تو ہم بھی ناکام ہوجائیں گے، ہم نے مستقل انداز میں اپنے ملک کو بہتری کی جانب لے جانا ہے تو یہ بنیادی چیلنج ہے جس سے نمٹنا ہوگا، ہمارے لیے اب بھی ایک خطرہ ہے، ملک کی زراعت نے اس انداز میں ترقی نہیں کی، جو چیز ملک کے لیے تباہی کا باعث بن سکتی ہے تو وہ بجلی کا شعبہ ہے، ہم اس مسئلے کو مسلسل حل کرنے میں بطور ملک ناکام رہے ہیں اور جو اس چیز کو ظاہر کرتی ہے وہ سرکلر ڈیٹ ہے، سرکار کی کمپنیاں بل اکٹھے کرنے میں کامیاب نہیں ہوتیں، توانائی سیکٹر کے مسائل کو حل نہ کیا گیا تو پاکستان تباہ ہوجائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ملک دیوالیہ نظر آرہا تھا اور ہم بحران میں داخل ہوچکے تھے، کوئی ہمیں قرض دینے کو تیار نہیں تھا، پہلی چیز یہ تھی کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچائیں، اس میں بہت محنت کی گئی، کچھ دوست ممالک نے ہماری مدد کی، تقریبا 8 ارب ڈالر باہمی تعاون سے حاصل کیے، تیل خریدنے کے لیے قسطوں میں پیمنٹ کی سہولت لی۔انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کے بارے میں بہت تقریریں ہوئیں اور جذبات کا اظہار بھی ہوا، 2008 میں جو حکومت آئی اور 2013 والی حکومت بھی آئی ایم ایف کے پاس گئی، یہ زیب نہیں دیتا جو خود گئے وہ دوسروں پر تنقید کریں، یہ ہمارا ایک قومی مسئلہ ہے کہ ہمارے ہاں ترقی کی رفتار ایسی نہیں ہوتی کہ آئی ایم ایف کے پاس نہ جائیں، کوئی بھی آئی ایم ایف خوشی سے نہیں جاتا حالات مجبور کرتے ہیں، ہمیں آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالرز آسان قسطوں پر ملے، یہی پیسے کمرشل لیتے تو بہت مہنگے ہوتے، اہم چیز یہ ہیکہ دنیا کو اعتماد ملا کہ پاکستان ڈسپلن اور حیثیت کے مطابق چلنے کو تیار ہے، وہ دنیا اور اداروں سے پارٹنر شپ کے لیے تیار ہے، وہ پاکستان کے صاحب حیثیت لوگوں سے ٹیکس لینے کو تیار ہے، اس کا براہ راست فائدہ ہوا، بین الاقوامی ادروں نے بھی ہماری مدد کی۔مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پالیسی میں دنیا کا اعتماد بڑھا، کچھ لوگوں کے کمنٹس پر دکھ ہوا کہ مذاکرات کے لیے دوسری سائٹ سے بھی آئی ایم ایف کے لوگ تھے، پاکستان کو رضا باقر پر فخر ہونا چاہیے، یہ لاہور کے شہری ہیں اور اپنی قابلیت کی وجہ سے اچھی جامعات میں گئے، آئی ایم ایف میں گئے وہاں یہ نہیں ہوتا کہ ایم این اے کا بندہ ہے تو نوکری مل جائے، جو لوگ آئی ایم ایف کے کوریڈور میں بھی نہیں گھس سکتے وہ آئی ایم ایف کے بڑے لوگوں پر بیٹھ کر تنقید کررہے ہیں، رضا باقر نے آئی ایم ایف سے استعفی دیدیا ہے، ان کی بہت بڑی نوکری تھی اور بہت بڑی تنخواہ تھی، انہوں نے اس کو ٹھکرا دیا وہ پاکستان کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم بحران سے نمٹنے کے لیے دو بڑی چیزیں کرنا تھی جن میں پہلے اخراجات کی کمی تھی، حکومت نے کچھ ایسے فیصلے کیے جو تاریخ ساز ہیں، یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کیسے اس ملک کے ادارے اور لوگ اس جدوجہد میں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں، بڑا فیصلہ کیا گیا کہ فوج کے بجٹ کو منجمد کیا جائے،کیا ایسا فیصلہ کسی نے پہلے کیا، سول حکومت کے بجٹ میں 40 ارب کی کمی کی گئی،اخراجات کو مینج کرنے کے لیے سخت بجٹ بنایا ، ہمارا ٹیکس ریشو دنیا کے کم ترین ممالک میں سے ہے، پہلے 7 ماہ میں 2 ہزار 200 ارب کے قریب ٹارگٹ تھا جو 2 ہزار ایک سو ارب حاصل کیا، ہم 5 ہزار اب کے قرض واپس کرنا ہیں، طے کیا اسٹیٹ بینک سے قرض نہیں لیں گے،7 ماہ میں اسٹیٹ بینک سے کوئی قرض نہیں لیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا کرنٹ اکائونٹ خسارہ 20 ارب ڈالر سے اب 2 ارب ڈالر پر ہے، اس سال یہ 8 بلین سے کم ہوگا، اس بہت بڑے خطرے کو ہم نے مینج کیا، دنیا کا پاکستان پر اعتماد بڑھا ہے اور معیشت میں استحکام آیا ہے جو لوگ کہتے تھے ایکسچینج ریٹ 200 ہوگا اب وہ کہاں ہے، لگتا ایسا ہے کہ یہ ایک ایسی سطح پر ہے جہاں پر اسٹیبل ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اطمینان سے یہاں بزنس کے فیصلے کرسکتے ہیں۔حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ قدرتی بات ہے دقتیں ہیں جن میں سے ایک قیمتوں میں اضافہ ہے، مہنگائی کی وجوہات کو دیکھنا ہوگا، باہر جو چیزیں آتی ہیں ان کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، اس میں سبزیوں کا آئل خاص طور پر تھا، کچھ چیزیں ہم باہر سے منگواتے ہیں، ان کی قیمتیں بڑھیں، پچھلے تین سال میں اسٹیٹ بینک سے جوقرض لیا گیا اس سے بھی مہنگائی میں اضافہ ہوا، بجلی کی قیمت جان بوجھ کر نہیں بڑھائی گئی اس وجہ سے بھی اضافہ ہوا، کچھ کھانے پینے کی چیزوں میں اضافہ سیزنل تھا، کچھ چیزیں انڈیا سے آتی ہیں اور ان سے ہمارے تعلقات اچھے نہیں، مہنگائی کے معاملے میں انتظامی لحاظ سے بھی بہتر کوآرڈینیشن کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ کے مسائل کے باوجود قیمتیں کم کرنے کی کوشش کررہی ہیں آئندہ ایک دو ماہ میں اشیاکی قیمتوں میں کمی آئیگی اورمستحکم ہوں گی۔مشیر خزانہ نے بتایا کہ یوٹیلٹی اسٹورزکو 50 لاکھ سے بڑھاکر ایک کروڑلوگوں کوکم قیمت پر اشیاد ینے کی ہدایت کی ہے، عوام سے درخواست ہے کہ یوٹیلٹی اسٹورز جائیں اور فائدہ اٹھائیں جب کہ آئندہ چند ماہ میں مزید 2 ہزار یوٹیلٹی اسٹورز کھولنے کا فیصلہ کیا ہے ، انتہائی غریب افراد کو 50 فیصد رعایتی نرخوں کے لیے راشن کارڈز دیے جائیں گے، رمضان میں 19 آئٹمز پر قیمت کم ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں