14

کورونا وائرس، تمام ضروری اقدامات کررہے ہیں ،فی الحال کرفیو نہیں لگاسکتے، وزیراعظم

اسلام آباد(سی این پی)وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کررہے ہیں تاہم فی الحال کرفیو نہیں لگاسکتے۔ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے سینیئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پیٹرول، ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ملک میں کورونا وائرس کی وجہ سے معاشی سست روی سے نمٹنے اور مزدور طبقے کے ریلیف کیلئے وزیراعظم عمران خان نے جامع پیکج کا اعلان کردیا۔ سینیئر صحافیوں سے گفتگو میں وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 15 روپے فی لیٹر کمی کی جارہی ہے۔وزیراعظم نے بتایا کہ شرح سودمیں ردوبدل کافیصلہ اسٹیٹ بینک کریگا۔کورونا کی وجہ سے ملک بھر میں لاک ڈائون کے سوال پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہوسکتا ہے جہاں کورونا کا خدشہ لگے اسے سیل کریں، اگر خدانخواستہ کرفیو لگانا پڑا تو پہلے پوری تیاری کرنی ہوگی، کرفیو لگنے پر انتظامیہ کے ساتھ مل کر رضاکاروں کی فورس بناناپڑیگی اور اس فورس کے ذریعے غریبوں کو کھانا گھروں پر پہنچانا پڑے گا۔عمران خان نے کہا کہ یہ ٹی ٹوئنٹی کا میچ نہیں، ہوسکتا ہے صورتحال 6 مہینے چلے، ہمیں افراتفری کے بجائے دانشمندانہ فیصلے کرنا ہوں گے ، ٹرانسپورٹ بندکرنے سے سب سے بڑامسئلہ سپلائزکا آتا ہے، لوگوں کوپکڑکے جیلوں میں ڈالاگیاتووہاں بھی کوروناپھیل سکتاہے۔وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعدصوبے خودفیصلہ کرتے ہیں ہم صرف تجویزکرسکتے ہیں، وقت نے چین میں پاکستانی طلبہ سیمتعلق ہمارافیصلہ درست ثابت کیا۔وزیراعظم نے بتایا کہ لاک ڈائون کے اثرات سے نمٹنے کیلئے 100ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، 300یونٹ تک گیس اوربجلی کے بل 3ماہ تک قسطوں میں لیے جائیں گے، ہرخاندان کو4ماہ تک ماہانہ 3ہزارروپے دئے جائیں گے۔وزیراعظم نے بتایا کہ دالوں سمیت دیگراشیاپرٹیکس کی شرح کم کررہے ہیں، بڑی مشکل سے تفتان میں موبائل لیب لے کرگئے۔وزیراعظم نے کہا کہ ایران میں تو خود مسئلے تھے، کیا ہم پاکستانیوں کو واپس نہ لیتے؟ ایران کوروناسے چین کی طرح ڈیل نہیں کرسکا۔وزیراعظم نے ریلیف پیکج کے حوالے سے بتایا کہ مزدورطبقے کیلئے200ارب روپے مختص کررہے ہیں، یوٹیلیٹی اسٹورزکیلئے 50ارب روپے مزیدمختص کیے ہیں، گندم کی سرکاری خریداری کیلئے 280ارب ، انتہائی غریب طبقے کیلئے 150ارب روپے مختص کردیے، 100 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈسے صنعتیں لیبرپرخرچ کرسکیں گی، برآمدی صنعت کو100ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈ فوری دینے کافیصلہ کیاہے۔وزیراعظم عمران خان نے لاک ڈائون کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کتنی دیر چھابڑی والے کوگھر میں بندکرسکتے ہیں؟ کیا ہمارے پاس یہ صلاحیت ہے کہ ہم غریبوں کے گھرکھاناپہنچاسکیں؟انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون کے تحت اسکول اورعوامی مقامات پہلے ہی بندہیں، ہم ملک بھرمیں کرفیوکے متحمل نہیں ہوسکتے، ملک میں 21کیس آنے پر اسکول اور دیگرادارے بند کردیے گئے تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ زیادہ لوگ جمع ہونے سے کوروناتیزی سے پھیلتاہے، سب سے زیادہ خطرہ کورونا سے نہیں ،غلط فیصلوں سے ہوسکتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں