22

ہفتہ اوراتوار مارکیٹس کھولنے کا حکم ، چیف جسٹس نے اپنے فیصلے کی وضاحت کردی

اسلام آباد (سی این پی) سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کی دوٹوک الفاظ میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہفتہ اور اتوار کو شاپنگ سینٹرز کھولنے کا حکم عید کے تناظر میں ہے، چیف جسٹس نے کہا عید کے بعد صورتحال کا جائزہ لیں گے،ملک میں کورونا ہے، احتیاط نہ کی گئی تو کورونا شدت سے پھیل سکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5رکنی لارجربینچ نے کورونااز خود نوٹس کیس کی سماعت کی، اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا چیئرمین این ڈی ایم اے عدالت میں حاضرہیں۔چیف جسٹس نے کہا ہمارامسئلہ اخراجات کانہیں ہے،ہم لوگوں کوبہترسروس دلاناچاہتے ہیں، لوگوں کیلئے ہیومن ریسورس متعین ہیں وہ بہترکام نہیں کررہیں،کوروناازخودنوٹس کیس میں سماعت کے دوران چیئرمین این ڈی ایم اے عدات میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے کہا ہمارے لوگوں کو جانوروں سے بدتر رکھا جارہا ہے، سرکارکے تمام وسائل کو لوگوں کے اوپر خرچ ہونا چاہیے، کسی مخصوص کلاس کیلئے سرکار کے وسائل استعمال نہیں ہونے چاہئیں، مخصوص کلاس تو صرف2فیصدہے، این ڈی ایم اے شہروں میں کام کر رہا ہے ، دیہاتوں تک توگیاہی نہیں، جتنے قرنطینہ سینٹرزقائم ہوئے وہ صرف شہروں میں ہوئے، دیہاتوں میں لوگ پیروں کے پاس جاکردم کرارہے ہیں۔چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا کہ این ڈی ایم اے ساراسامان چین سے منگوارہاہے، چین میں ایک ہی پارٹی این ڈی ایم اے کوسامان بھجوارہی ، مقامی سطح پرسامان کی تیاری کیلئے ایک ہی مشین منگوائی گئی اور چیئرمین این ڈی ایم اے سے استفسار کیا یہ ڈیسٹوپاکستان آرمی کیاچیزہے؟ یہ مشین کسی پرائیویٹ آرمی پرسنل کی ہے یاپاکستان آرمی کی، جومشین باہر سے منگوارہے تھے وہ کسی پرائیویٹ آدمی کومنگوانے دیتے، آپ نے مشین کسی دوسرے آدمی کومنگوانے ہی نہیں دی۔چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ پرائیویٹ لوگ بھی مشینیں اورسامان منگوارہے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا آپ کوہرچیزاپنے ملک میں بنانی چاہیے، باہرسے نہ کوئی آپ کو دے گا اور نہ آپ سے لے گا، کھانے پینے کی اشیا،ادویات اوردیگرسامان اپنے ملک میں تیارکریں۔چیف جسٹس سپریم کورٹ نے کہا آپ یونیورسٹی گریجویٹس کواستعمال کریں، آپ اداروں کوچلا سکتے ہیں نہ ہی مینج کرسکتے ہیں، آپ نے سب کچھ سیاست زدہ کردیا، آپ نے اسٹیل ملزکوتباہ کر دیا، اسٹیل ملزمیں ٹینک اوردیگرسامان تیارہوتاتھا، بہت سی کمپنیوں کالیگل ایڈوائزررہاوہ غلط پالیسیوں کی وجہ سے بندہوگئیں، آپ پبلک یاپرائیویٹ سطح پرکام کریں لوگوں کونوکریاں ملنی چاہئیں۔جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ آپ صومالیہ سے بھی نیچے چلے جائیں گے، آپ غربت کی لکیر سے نیچے جارہے ہیں، ملک کے وسائل عوام کیلئے ہیں، صرف 2فیصد کے لیے نہیں، باقی 98 فیصد عوام پر بھی وسائل خرچ کریں۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ آپ نیکروڑوں روپے لگادیئے لیکن کچھ ہوتانظرنہیں آرہا،حاجی کیمپ پرپیسہ لگادیااب صرف حاجیوں کوکچھ فائدہ ہوجائیگا، ورنہ توحاجی بھی بدترین حالات میں وہاں گزاراکرتے تھے، جس پر چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ این ڈی ایم ا اے دیگراداروں کوبھی مددفراہم کررہاہے، ہمارے تعاون سے ملک میں 10لاکھ پی پی ایزبن رہی ہیں۔جسٹس گلزار نے چیئرمین این ڈی ایم اے سے مکالمے میں کہا آپ رقم کے حساب کتاب کوچھوڑیں، ہرچیزچین سے منگوائی جا رہی ہے،پاکستان میں چین سے گھٹیا مال منگوایا جاتا ہے ، جو 10کالے کر 1000 کا بکتا ہے، امریکامیں کھلونے کا رنگ بھی چیک ہوتاہے کہ بچے کوالرجی تونہیں ہوگی، یہاں سب کچھ بارڈر سے بغیرچیکنگ آجاتاہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا تمام طبی آلات پاکستان میں ہی تیارہوسکتے ہیں ، وقت آرہا ہے ادویات سمیت کچھ بھی باہر سے نہیں ملے گا ،پاکستان کو ہر چیزمیں خودمختار ہونا ہوگا، اسٹیل مل چل پڑے تو جہازاورٹینک بھی یہاں بن سکتے ہیں، تمام پی آئی ڈی سی فیکٹریاں اب بند ہوچکی ہیں، اسٹیل ملز کو سیاسی وجوہات پر چلنے نہیں دیا جاتا۔چیئرمین این ڈی ایم اے نے عدالت کو بتایا کہ 10 ملین پی پی ایزکٹ تیارہورہی ہیں، 1187 وینٹی لیٹرزکاآرڈردیاتھاجس میں سے300آچکے ہیں، 20اپریل کے بعداب تک کوئی پی پی ایزکٹ نہیں منگوائی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے امریکامیں ہرچیزکامعیاردیکھاجاتاہے، ہمارے یہاں جوسامان منگوایاجاتاہے اس میں معیار نہیں دیکھاجاتا، ہمیں معیاری سامان چاہیے۔اٹارنی جنرل نے کہا عدالتی ریمارکس سے عوام سمجھ رہے ہیں کورونا سنجیدہ مسئلہ نہیں، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا ٹی وی پر سنا ایک شخص کہہ رہا تھا صبح کے وقت طارق روڈ پر پارکنگ تھی، اس وقت تک ہم نے نہ کوئی آرڈر اورنہ کوئی ریمارکس دیے تھے۔اٹارنی جنرل نے مزید کہا یہ نہیں کہہ رہا بازاروں میں رش چیف جسٹس کی وجہ سے لگ گیاہے، عوام سپریم کورٹ کے فیصلوں کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں،عدالت کے حکم کے باعث انتظامیہ کواقدامات میں مشکلات ہیں، استدعا ہے ریمارکس اور فیصلے دیتے ہوئے معاملے کی سنجیدگی کو مدنظر رکھا جائے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حکومت کورونا وائرس کے خلاف نبردآزما ہے، چیئرمین این ڈی ایم ایکی رپورٹ بڑی مفیدہے، پی پی ایز پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں، وینٹی لیٹرزکی پیداوار بھی شروع ہوچکی ہے، 1187وینٹی لیٹرزحکومت بیرون ملک سے منگوانے کا آرڈر دے چکی ہے، 300وینٹی لیٹر آچکے ہیں۔جسٹس گلزار نے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا شاپنگ سینٹر ہفتہ اوراتوار کو کھولنے کا حکم عید کے تناظر میں تھا، عید کے بعد صورتحال کا جائزہ لیں گے، احتیاط نہ کی گئی تو کورونا شدت سے پھیل سکتا ہے۔چیف جسٹس سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم ا ے نے تسلی بخش رپورٹ دی ہے، لوگ اس سے بڑی تعدادمیں متاثرہورہے ہیں، ہم جانتے ہیں کوروناملک میں موجودہے، سرکاری دفاتر کھول کر نجی ادارے بند کررہے ہیں، سندھ حکومت کے فیصلوں میں بڑا تضاد ہے، جس پر اے جی سندھ نے کہا وفاقی حکومت طبی ماہرین کی رائے کے برخلاف جارہی ہے جبکہ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالت کے ہفتہ اتوارلاک ڈائون کے حکم سے ممکن ہے حکومت مطمئن نہ ، حکومت نے اس کے باوجود اس پرعمل کیا۔جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ ہماری پورے پاکستان پر نظر ہے، آنکھ، کان اورمنہ بند نہیں کرسکتے، ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا عدالت ہماری گزارشات بھی سن لے، عدالت ماہرین کی کمیٹی بنا کر رپورٹ طلب کرلے، لاک ڈائون ختم ہوگیا ،اس کا نتیجہ کیا ہوگا، ہفتے میں 2دن لوگ مارکیٹ نہیں آئیں گے تو وبا کا پھیلائو زیادہ نہیں ہوگا۔جسٹس سردارطارق نے کہا مالز محدود جگہ پر ہوتے ہیں جہاں احتیاط ممکن ہے،راجہ بازار،موتی بازار،طارق روڈپررش زیادہ ہوتا ہے، مالزکھولنے کا الزام عدالت پر نہ لگائیں۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا ٹڈی دل کا بڑا ریلا ایتھوپیا سے پاکستان کی جانب بڑھ رہاہے، ٹڈی دل سے نمٹنے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ٹڈی دل کو قابو نہ کیا تو آئندہ سال فصلیں نہیں ہوں گی، پہلے بھی ٹڈی دل آتا تھا لیکن2ہفتے میں اسے ختم کردیا جاتا تھا، فصلوں کے تحفظ کے ادارے کے پاس جہاز تھے، جو ٹڈیوں سے نمٹتے تھے۔چیئرمین این ڈی ایم اے محمدافضل نے کہا اس وقت 20میں سے صرف ایک جہاز فعال ہے، مزید ایک جہاز بھی خرید لیا ہے، پاک فوج کے 5ہیلی کاپٹرز کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں، توقع ہے ٹڈی دل سے جلدنمٹ لیا جائے گا۔سپریم کورٹ نے سینٹری ورکرزکوتنخواہیں اورحفاظتی سامان مہیا کرنے کا حکم دیتے ہوئے وفاق اور صوبائی حکومتوں کی کوروناخطرات پر ماہرین کی ٹیم بنانے کی استدعامسترد کردی اور وفاق اور صوبائی حکومتوں سے پیشرفت رپورٹس طلب کرلیں۔اٹارنی جنرل نے کہا وضاحت کردیں ہفتہ اتوار کا لاک ڈائون عید تک ہے، جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 8جون کو ہونے والی سماعت میں وضاحت کردیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں