12

یورپی ارکان پارلیمنٹ نے فلسطین میں اسرائیلی آباد کاری مسترد کر دی

لندن(سی این پی) ایک ہزار سے زائد یورپی ارکان پارلیمنٹ نے فلسطین میں اسرائیلی آباد کاری مسترد کر دی ہے۔تفصیلات کے مطابق یورپی ارکان پارلیمنٹ نے فلسطینی علاقے مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری پر تحفظات کا اظہار کر دیا ہے، 1080 ارکان نے یورپی حکومتوں کو خط میں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔خط میں 25 ممالک کے ارکان نے یہودی بستیوں کی تعمیر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، یورپی پارلیمنٹرینز نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے کی اسرائیل میں شمولیت غلط مثال قائم کرے گی۔یورپی پارلیمنٹرینز نے خط میں لکھا کہ یورپ دہائیوں سے فلسطین اور اسرائیل تنازع کے حل کی کوششیں کر رہا ہے، امریکی صدر کا منصوبہ فلسطین پر اسرائیلی تسلط قائم کرے گا، ٹرمپ منصوبہ یو این قراردادوں اور عالمی قوانین سے مطابقت نہیں رکھتا۔خط میں ارکان پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ وہ فلسطینی اور اسرائیلی عوام کی مرضی کے مطابق اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں، خطے کے امن کے لیے مسئلے کا پائیدار حل ضروری ہے۔واضح رہے کہ 1080 ارکان پارلیمنٹ میں برطانوی لارڈز بھی شامل ہیں، 240 سے زیادہ دستخط کرنے والے برطانوی قانون ساز ہیں۔ لندن میں اسرائیلی سفارت خانے نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ متعدد اخبارات میں اس خط کی اشاعت مغربی کنارے کے الحاق کا عمل شروع ہونے سے ایک ہفتہ پہلے ہوئی ہے۔اسرائیلی منصوبے کی قیادت وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کر رہے ہیں، جو مغربی کنارے کے چند حصوں پر اسرائیلی خود مختاری میں توسیع کے خواہاں ہیں، بشمول یہودی آباد کاری۔

اپنا تبصرہ بھیجیں