22

جاگیر دارا نہ اور سر مایہ دارا نہ مزا ج کاعصر ی تنا ظر میں تا ریخی جا ئزہ—– تحریرپرو فیسر شمشا د اختر

ان لو گو ں کا مزا ج کیا ہے ؟نفسیات کس طر ح کی ہے ان کا طر یقہ وا ر دا ت کیا ہو تا ہے اور ان کی چالبا زیوں کا ر نگ کیا ہو تا ہے ۔ ان دو نو ں کے طر یقہ وا ردا ت میں فر ق تو ہو تا ہے لیکن ان کے مقا صد تقر یبََا ایک جیسے ہو تے ہیں اور پھر یہ کہ جاگیردار اور سرما یہ دار ےو رپ کے ہوں ایشیا ءکے ہو ں یا افر یقہ کے ان کی ذہنےت ایک جیسی ہو گی ،برّاعظم امریکہ کے اعلی تعلیم ےافتہ سرماےہ دار اور فرا نس کے مہذ ب جا گیر دار کا مزا ج افریقہ کے ان پڑھ اور ان گھڑ سرما یہ د ار اور ایشیا ءکے تو ہم پر ست اور مذہب پسند جا گیر دار سے قطعََا مختلف نہیں ہو گا بلا شبہ ان کی ز با ن،رنگ اور وطن الگ الگ ہیں لیکن ان کی نسل ایک ہے۔ان کی ز با ن قینچی ان کا رنگ”ہمہ رنگ“ ان کا و طن جا گیر اور مذہب پیسہ ہے کیو نکہ اعلی سے اعلی تعلیم جا گیر دار کو نر م خو اور مہذ ب نہیں بنا سکتی اور نہ ہی سر ما یہ دا ر کو صاف نیّت اور پختہ کر دار بنا سکتی ہے اس لیے وحشت جا گیر دار کا اورعیّا ری سر ما یہ دا ر کا خا صہ ہے۔
قرآن مجید اس طبقہ کے لئے ”متر ف “( زر پرست)اور ”ملا ئ“ (ذات پر ست) کی اصطلا حا ت استعما ل کر تا ہے اب بطو ر نمو نہ چند حوا لے قرآن سے پیش کئے جا تے ہیںجس سے اندا زہ ہو تا ہے کہ آدم علیہ السلا م سے لے کر عصر حاضر تک اس طبقے کا روّیہ، مزا ج اور طریقہ واردات کیا ہے۔ حضر ت نو حؑ جب پیغام تو حید اور پیغا م انقلا ب لے کر اپنی قو م کے سا منے پیش ہو ئے تو جا گیر داروں اور سر ما یہ دا رو ں یعنی متر فین اور ملا ء نے جوا بََا کہا ”قوم کے کا فر سر دا ر بو لے ہم تمہیں ایک عا م آ د می کیطر ح دیکھتے ہیںاور یہ بھی جا نتے ہیں کہ تمھارے پیروکار اد نیٰ در جے کے ہیںاور بھی جذبا تی بنیا د پر آپ کے سا تھ ہو لئے اور تم ہمیں کو ئی غیر معمو لی آدمی بھی نظر نہیں آتے بلکہ ہم تمہیں جھو ٹا
سمجھتے ہیں“ (ہو د:۷۲۱)اس کے علا وہ ہودؑ قو م عا د کی طر ف مبعو ث کئے گئے ر دّعمل کیا ہوا اس قوم کے سردار اور رئیس کہنے لگے جو ان کی نفسیات تھی”قو م کے سر دا ر اور رئیس بو لے ہم تمہیں بیو قوف اور جھو ٹا سمجھتے ہیں“ ( الا عرا ف:۶۶)جب حضر ت صا لحؑ قوم ثمود کی طر ف بھیجے گئے آپ ؑ نے ان کو دعو ت حق دی تو اس قو م کے سر دار بو لے”تو ان کی قو م کے سر دار جو مغرو ر تھے غر یب لو گو ں سے جو ایما ن لا ئے تھے کہنے لگے بھلا تم یقین کر تے ہوکہ صالح اپنے پر ور د گا ر کی طر ف سے بھیجے گئے ہیں ؟انہو ں نے کہا جو چیز وہ دے کر بھیجے گئے ہیں ہم بلا شبہ اس پر ایما ن ر کھتے ہیںتو یہ مغرو ر اور وڈیر ے بو لے جسے تم ما نتے ہو اسے ہم نہیں ما نتے “ ( الا عرا ف:۵۷،۶۷) حضر ت شعیبؑ مد ین میں اپنا فر یضہ نبو ت ادا کر تے ہو ئے لو گو ں کو پو را تو لنے ، درست نا پنے،فسا د بر پا کر نے اور آو رگی سے احترا ز بر تنے کی تلقین کر تے ہیں تو ”اپر کلا س “ دھمکیو ں پر ا تر آ تی ہے اور کہتے ہیں ”تو مغرور اور و ڈیروں نے کہا ہم تمہیں اور تمہا رے پیرو کا رو ں کو شہر سے نکا ل دیں گے“(الاعراف : ۸۸)اسی طر ح مو سی ؑ آیا ت و معجزا ت لے کر فر عو ن اوع اعیا ن سلطنت کے پا س تشریف لا ئے اور فر ما یا کہ میں اپنے ربّ کی طر ف سے نشا نیا ں لے کر آ یا ہوں اپنا فر ض منصبی سمجھ کر تمھیں متنبہ کر تا ہو ں کہ تم بنی اسرا ئیل کو آ زا د کر دو جسے ایک عر صے سے تم نے غلا م بنا ر کھا ہے آ زا دی کے اس نقیب کو طبقہ اُمراءکی طر ف سے یہ جوا ب ملا۔
”قوم فر عو ن کے سر کش وڈیرے بو لے کیا آپ ( فر عو ن)موسی ؑ اور اس کے سا تھیو ں کو یہ اجا ز ت دے دیں گے کہ وہ ز مین میں فسا د بر پا کر تے پھر یں“ ( الا عرا ف : ۷۲۱) حضو ر ﷺ دنیا انقلا ب آفر یں،حیا ت پر ور اور انسا نیّت نوا ز پرو گرا م لے کر آئے اور لو گو ں سے مخا طب ہو ئے اور انہیں صحیح العقیدہ، خوش اخلا ق، را ست با زاور بندہ خدا بننے کی نصیحت کی تو صنا دید قریش اورسر دارا ن مکّہ نے یہ طعن آمیز ردّ عمل کا ظا ہر کیا ”لو گ کہنے لگے یہ قرآن ان دو نو ں بستیوں( مکہّ اور طا ئف) میں سے کسی بڑے آد می پر نا زل کیو ں نہیں ہوا “ ( الز خرف:۱۳)یہ اس زر اندو زاور ذات پرست ، جاگیر دارو ں ،سر مایہ دا رو ں اور و ڈیروں کا کر دار ہے جو کا ئنا ت کی سب سے سچی اور مستند کتا ب ( قر آن ) نے پیش کیا جس کے کسی ایک شو شے پر نہ کبھی تا ریخ کے کسی دو ر کو شک گزرا ہے اور نہ اس کی صدا قت پر کو ئی کلمہ گو مسلما ن شک کر سکتا ہے۔
جا گیر بذا ت خو د قبیح نہیںبشر طیکہ انسا ن کو اپنا ”اسیر “ نہ بنا لے اور زر فی نفسہ برا نہیںبشر طیکہ خیر و شر کی بنیا دی قدر نہ بن جا ئے۔
جا گیر دار ظلم سے حقو ق غضب کر تا ہے اور سر ما یہ دار مکر اور حیلے سے پیسہ جو ڑتا ہے لیکن اس میں کو ئی شبہ نہیں کہ یہ لو گ علم کی ابجد وا قف نہ ہواور دستخط تک کر نے سے عا ری ہو ں مگر ان سا ما ہر امو ر دیہہ اور اما م اقتصا د یا ت کو ئی نہ ہو گا۔جا گیر دار گر د ن د بو چ کر ز مین بڑھا نے کا اور سر ما یہ دار پا ﺅں سر پہ ر کھ کر اپنے کا رو با ر کو فر و غ دے گا یو ں کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ایک نظر آ نے وا لا ازدھا اور دوسرا اس کے اندر چھپا ہوا زہر ہے ایک کی شکل بھیا نک اور دوسرے کا ز ہر مہلک، سچی با ت یہ ہے ان کی قو ت با صرہ چیل سے زیا دہ۔
قوّت سا معہ چوہے سے تیز،قوّت شا مّہ چیو نٹی سے بڑھ کے ہو تی ہے بہت دور سے انقلا ب کو دیکھتے،اس کی آواز سنتے،اس کی بو سو نگھتے ہیںاور اس کی آمد کو رو کنے کے لئے مختلف سا ز شو ں اور تد بیروں میں لگ جا تے ہیں، البتہ طر یقہ کا ر بہت دلچسپ اختیا ر کر تے ہیں۔کو ئی سو شلزم کا دا عی اٹھ کھڑا ہو یا کو ئی ”اسلا م خطرے میں ہے “ کا نعرہ لگا کر سا منے آ جا ئے، بحا لی جمہو ر یت کی تحر یک چل رہی ہو یا ما ر شل لا ءکا غلغلہ ہو زور اور زر یہ فرا ہم کر تے ہیںتا کہ من پسند نظام آنے پر دو دا نے اوپر حصہ و صو ل ہو سکے ان د نو ں و ڈیرو ں کے ڈیرے یکدم آبا د ہو جا تے ہیں اور مرغ و ما ہی کی قا بیں مہما نو ں کے لئے چشم برا ہ ہو تی ہیں اس طر ح غریب ،مز دو ر ، محنت کش طبقے کو وہ اپنی طر ف ما ئل کرنے کے لئے صنعتکا ر ، آڑھتی اور تا جر اپنی تجو ریو ں کے منہ کھو ل دیتے ہیں تاکہ نئے سسٹم میں اپنی جگہ بنا سکیں۔
ان کا طریقہ واردات یہ ہو تا ہے کہ صدا ئے انقلا ب پر یپہ اس کے مخا لف اور کا میا ب ہو نے پر اس کے سر گر م حا می بن جا تے ہیں ۔ان کے ہا ں چاپلو سی ،ضمیر فروشی، پا رٹی بد لنا ، ما ضی سے د غا کر نا، اصو ل بیچنا ، قصید ے پڑھنا ان کے ہا ں کو ئی معنی نہیں ر کھتے جس مٹی سے یہ
لو گ بنے ہیں اس میں ر حم، مر وّت ،انصا ف ، را ست با زی ، را ست با زی ، خدمت خلق کے ذرّے سرے سے شامل ہی نہیں اس طبقے کی کامیا ب حکمت عملی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ لو گ بیک وقت ایک سے زیا دہ مشا غل کے عا دی اور فنو ن کے ما ہر ہو تے ہیں اکثر و بیشتر سر خرو ہو تے ہیں ۔ جو ئے ، شرا ب، کلبوں اور ہو ٹلو ں میں ہزا رو ں رو پے اڑا کر چند سو رو پے دفا عی فنڈمیں جمع کر وا دیتے ہیں ۔آبیا نے ،
ما لیے اور ٹیکس کے لا کھوں رو پے بچا کر چند ہزا ر رو پے کسی کا لج،سپورٹس گراﺅنڈاور ہسپتا ل میں خر چ کر دیتے ہیں ۔سٹے با زی اور سو دکے
ذریعے کروڑو ں رو پے کما کر گاہے گا ہے ہزاروں رو پے صدر، وزیر اعظم اور گو رنر کے فنڈ دے دیتے ہیں اور یو ں نیک نا می اورمخیر ہو نے کا سر ٹیفیکیٹ لے لیتے ہیں۔
دوسرا طریقہ وا رداتیہ کہ وصا ل صنم کے سا تھ سا تھ خدا کو بھی را ضی کر نے کی کو شش کر تے رہتے ہیں اس میں ” ٹو ٹے “ چلواتے ہیں ، جو ئے خا نے ، شرا ب خا نے قا ئم کر تے ہیں ڈیروں ، کو ٹھیو ں اور بنگلو ں میں رقص و سرو ر کی محفلیں جما تے ہیں جبکہ دو سر ی طر ف دس کنا ل کی کو ٹھی کی ایک کو نے میں مسجد کھڑی کر د یتے ہیں کبھی محفل میلا د، محفل عزّا اور قوا لی بھی پو رے اہتما م سے کر وا تے ہیں یہی و جہ ہے کہزیا دہ تر نئی فلم اور مختلف افتتا حی تقریبا ت کے مہما ن خصو صی اور محا فل کے صدر نشین یہی نظر آ تے ہیں۔یہ ظا لم تقسیم کا ر کے بڑے ما ہر اورہر شعبہ ز ند گی میں اثر پیدا کر نے کے بڑے گر جا نتے ہیںان کے کر تو تو ں میں ایک چیز یہ بھی قا بل ذکر ہے پہلے ذخیرہ اندو زی کے ذریعے مصنوعی قلّت پیدا کر تے ہیں اور زمین شکا ر گا ہو ں میں بدل کر اجنا س کا قحط لا تے ہیںجب حکو مت پر یشا ن ہو کر ان کی طرف رجو ع کر تی ہے تو یہ خیر سگا لی کا مظاہرہ کر کے اور حکو مت کو اپنا مکمل تعا ون پیش کر کے اشیاءصرف با زاروںاوراجنا س منڈ یو ں میں لے آ تے ہیںیو ں حکو مت سے اپنی اہمیّت اور افا د یّت منوا لیتے ہیںتا کہ بو قت ضرو رت سند رہے۔یہ شا طران ازل سانپ کی
طر ح کینچلی اتا رنے اور کھال بد لنے کے ما ہر ہوتے ہیں یہ نا ئٹ کلب کے رقاّص،مند رو ں کے پجا ری،سیا سی تحر یکو ں میںلیڈر، دو کا نو ں پر بنیئے اور پو لیس چوکیو ں میں ٹاﺅٹ نظر آتے ہیںیہ ربیع الا وّل میں سنّی، محر م میں شیعہ،رمضان میں نما زی اور ذی الحجہ میں حا جی بن جا تے ہیں۔انگریز حکو مت ہو تو اس کے ”ریکروٹنگ ایجنٹ“، کمیو نسٹ حکمرا ن ہو ں تو یہ نا مو ر کا مریڈ، اسلا می نظا م کا چر چا ہو تو مجا ہد اسلا م، جمہو ری حکو مت ہو توبڑے ڈیمو کر یٹ کوئی آمر اقتدا ر پر قبضہ کر لے تو نرے و فا ق پر ست دکھا ئی دیتے ہیں اگر تجز یہ کیا جا ئے تو یہ ابن الو قت نظر آتے ہیں۔
اس میں کو ئی شک نہیں کہ دو لت مندو ں میں کئی ”عثما ن غنی“ بھی سا منے آ تے ہیںاور ان کا خیر مقدم کیا جانا چا ہیے اور ایسے افرا د کو پہچا ننے میں کو ئی د قت نہیں ہو تی کیو نکہ ما تھے کی لکیر یں اور آنکھو ں کے ڈو رے ان کے ”غنا “ کا پتہ دے رہے ہو تے ہیں زر اندوزوں اور ذات پر ستو ں کے ما ضی اور حال میں کو ئی ربط نہیں ہو تااور حا ل اور مستقبل کے
در میا ن کڑھیاں مفقو د نظر آ تی ہیںجبکہ عثما ن غنیؓ کا ما ضی حا ل سے مر بوط اور مستقبل اور ما ضی کے در میا ن ” ز ما نہ حا ل“صد ق اور غناءکی مضبو ط کڑی دکھا ئی دیتا ہے ان کے مزا ج پر ہزا رو ں مو سم بھی گز ر جائیں استقامت کا پہا ڑ دکھا ئی دیتا ہے ۔ان کا سر ما یہ انکی جا گیر را ہ خدا اور خد مت خلق کی جذبے میں صرف ہو تی ہو ئی دکھا ئی دیتی ہے حر ص و لا لچ کے طو فا ن اور آندھیا ں راہ حق سے کبھی ہٹا نہیں سکتے یہ لو گ اپنے سرما یہ اور جا گیر کے سا تھ ابو الوقت ہو تے ہیں نہ کہ دنیا دار سر مایہ دا رو ں اور جا گیر دا رو ں کی طر ح ابن الو قت ہو تے ہیں۔یہ لو گ خدا کی مخلو ق، رسولﷺ کے وہ امتی،ملک کے وہ با شندے اور قو م کے وہ افرا د ہیںجو خدا، رسولﷺ، ملک اور قوم کے علا وہ ہر ایک کے و فا دا ر ہو تے ہیں خا ص طو ر پر ہوا ئے نفس، ہو س ما ل ۔ جا ہ منصب اور اپنے کا رو با ر کے تو تہ دل سے وفا دار ہو تے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں