19

اقوام متحدہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے،وزیر خارجہ کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے نو منتخب صدر سے بات چیت

اسلام آباد (سی این پی) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے اور مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کیلئے اپنا موثر کردار ادا کرے، پاکستان مشترکہ ذمہ داری کے تحت افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنا مصالحانہ کردار خلوص نیت سے ادا کر رہا ہے، خطے میں دیرپا امن و استحکام کیلئے بین الافغان مذاکرات کا جلد انعقاد ناگزیر ہے۔یہ باتیں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے نو منتخب صدر وولکن بوزکر سے بات چیت کرتے ہوئے کہی جنہو ں نے پیر کو یہاں وزارت خارجہ میں ان سے ملاقات کی۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، ڈی جی یو این اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران نے شرکت کی۔دوران ملاقات اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 75 ویں اجلاس سے متعلقہ امور، اجلاس کے ایجنڈے سمیت باہمی دلچسپی کے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے وولکن بوزکر کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس کیلئے صدر منتخب ہونے پر مبارک باد دی اور نیک تمناوں کا اظہار کیا۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس کیلئے جاری کیا گیا ایجنڈا خوش آئند ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا پچھترنواں اجلاس اس لیے بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہو گا کیونکہ دنیا ایک طرف کورونا عالمی وبائی چیلنج سے نمٹنے کیلئے کوشاں ہے تو دوسری طرف ہم عالمی معاشی بحران کو پنپتا ہوا دیکھ رہے ہیں پاکستان، امسال وبائی تناظر میں جنرل اسمبلی کے انعقاد کے طریقہ کار کے فیصلے سے متفق ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اس بات کا بھی بخوبی ادراک ہے کہ وبائی صورتحال کے پیش نظر عالمی رہنماوں کی کثیر تعداد میں جنرل اسمبلی اجلاس میں روایتی شرکت مناسب نہ ہو گی۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ کورونا کے عالمی وبائی چیلنج سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر جامع اور مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانا ہوں گی۔کورونا ویکسین کی تیاری کیلئے بہت سے ممالک اپنی کوششیں بروئے کار لا رہے ہیں۔ توقع ہے کہ کورونا ویکسین تک رسائی سب ممالک بالخصوص ترقی پذیر ممالک کو ترجیحی بنیادوں پر ممکن بنائی جائے گی۔ وزیر خارچہ نے کورونا وبا کے مضمرات سے نمٹنے اور کمزور معیشتوں کی معاشی بحالی کیلئے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے ترقی پذیر ممالک کیلئے قرضوں میں سہولت کی تجویز سے بھی نومنتخب صدر جنرل اسمبلی کو آگاہ کیا۔ وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے نو منتخب صدر کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداوں اور بین الاقوامی قوانین کی صریحا خلاف وزری کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کیلئے 5 اگست 2019کو یکطرفہ اقدامات اٹھائے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی طرف سے کشمیریوں کا ماورائے عدالت قتل، نہتے شہریوں پر بلاجواز فائرنگ اور تشدد معمول بن چکا ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت لائن آف کنٹرول کی مسلسل خلاف ورزیوں کے ذریعے معصوم اور نہتے شہریوں کو گولیوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردوں کی روشنی میں عالمی سطح پر ایک متنازعہ مسئلہ ہے جس کی توثیق سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے اپنے 8 اگست 2019کے بیان میں بھی کی ہے جو ریکارڈ کا حصہ ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہمیں توقع ہے کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی، اپنے وڑن کی روشنی میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو رکوانے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں، مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کیلئے اپنا موثر کردار ادا کرے گی۔ پاکستان، اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی فورمز کو بھارت کے عزائم سے متعلق آگاہ کر چکا ہے۔ دونوں رہنماوں کے مابین افغان امن عمل سمیت، خطے میں جاری امن و استحکام کی کاوشوں پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان مشترکہ ذمہ داری کے تحت افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنا مصالحانہ کردار خلوص نیت سے ادا کر رہا ہے ۔ خطے میں دیرپا امن و استحکام کیلئے بین الافغان مذاکرات کا جلد انعقاد ناگزیر ہے۔

TAGStop

اپنا تبصرہ بھیجیں