19

پارک لین ریفرنس،آصف علی زرداری پر فرد جرم عائد

اسلام آباد(سی این پی) احتساب عدالت نے سابق صدر آصف علی زرداری پر ویڈیو لنک کے ذریعے پارک لین ریفرنس میں فردِ جرم عائد کی اور سابق صدر نے عدالت میں صحت جرم سے انکار کر دیا ہے۔عدالت نے سابق صدر سمیت دس ملزمان اور تین کمپنیوں پر فرد جرم عائد کی۔ کمپنیوں پر نمائندوں کے ذریعے فردجرم عائد کی گئی۔ مذکورہ کمپنیوں میں پارک لین کمپنی، پارتھینون کمپنی اور ٹریکم پرائیویٹ لمیٹڈ شامل ہیں۔پارک لین کمپنی ریفرنس میں17 میں سے مجموعی طور پر 13 ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی ہے جن میں10 افراد اور تین کمپنیاں شامل ہیں۔ ریفرنس میں نامزد3 ملزمان یونس قدوائی، عزیر نعیم اور اقبال میمن اشتہاری ہیں۔احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد اعظم خان نے پارک لین ریفرنس کی سماعت کی۔ آصف زرداری ویڈیو لنک کے ذریعے بلاول ہاؤس کراچی سے عدالت میں پیش ہوئے۔ اقبال نوری اور طحہ رضا کے وکلانے فرد جرم رکوانے کی درخواستیں دائر کیں جن کو مسترد کردیا گیا۔عدالت نے سابق صدر سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے فرنٹ کمپنی پارتھینن کے ذریعے غیر قانونی قرض لے کر فراڈ کیا؟ سابق صدر آصف علی زرداری نے عدالت میں جواب دیا کہ’ میں تمام الزامات مسترد کرتا ہوں‘۔آصف زرداری نے کہا کہ وکیل سپریم کورٹ میں ہیں ان کے بغیر فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔ جج اعظم خان نے کہا کہ فرد جرم آپ پر عائد کی جائے گی۔ اگر آپ کے وکیل نہیں آتے تو ہم ان کی غیرحاضری لگائیں گے۔آصف زرداری نے کہا آپ رولنگ دے دیں کہ وکیل موجود نہیں تو آپ اپنا کیس خود لڑیں۔ جج اعظم خان کا آصف زرداری سے مکالمے میں کہا کہ آپ مجھ سے رولنگ نہ مانگیں۔سابق صدر نے کہا کہ جب آپ کے سامنے پیش ہوا ہوں تو رولنگ بھی آپ سے مانگوں گا۔ جج نے کہا کہ میں کسی وکیل کو زبردستی عدالت نہیں بلا سکتا۔جج محمد اعظم خان نے کہا ہم آرڈر میں لکھیں گے کہ فرد جرم عائد کرتے وقت وکیل نہیں تھے۔عدالت نے انور مجید، شیرعلی، فاروق عبداللہ، سلیم فیصل اوراڈیالہ جیل میں موجود ملزم محمد حنیف پر بھی فرد جرم عائد کردی ہے۔ انور مجید سمیت تمام ملزمان نے بھی عدالت میں صحت جرم سے انکار کردیا ہے۔عدالت نے ملزمان کو لگائی جانے والی دفعات سے ویڈیو لنک کے ذریعے آگاہ کیا۔ تمام ملزمان پر کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کے سیکشن 9اے 3، 4،6،12 تحت کیس چلے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں