205

پگڈنڈیاں—جس قوم کے بچے—ڈاکٹر رابعہ تبسّم

ڈاکٹر رابعہ تبسّم

جس قوم کے بچے

جب یہ دنیا وجود میں آئی تو اللہ تعالیٰ نے انسان کو بیشمار صلاحیتیں دے کر اس کے اندر چھپے خزانے تلاش کرنے کے لئے زمین پہ اتارا۔ساتھ ہی بہت سی جسمانی اور روحانی ضروریات کو بھی انسان کیلئے لازمی قرار دے دیاتا کہ وہ ان کو پورا کرنے کے لئے اپنی اندرونی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مقصدِ حیات کوپا لے۔اوّل دن سے انسان نے اپنے ارد گرد کے ماحول کا مشاہدہ کرتے ہوئے اپنے لئے رہائش، خوراک اور لباس جیسی بنیادی ضروریات کے سا تھ ساتھ اپنی روحانی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مختلف ذرائع اختیار کئے جن میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں آتی رہیں ۔
لوگوں کے مختلف گروہ دنیا کے مختلف علاقوں میں آباد ہوتے گئے اور معیشت ومعاشرت ترقی کی منازل طے کرتی رہیں۔اگر قوموں کی تاریخ کا مطالعہ کریں،ایک بات سب میں مشترک ملے گی کہ صرف وہی قومیں صدیوں تک زندہ رہ سکیں جنھوں نے اپناسرمایہ علمِ وہنر اپنی آنے والی نسلوں کو منتقل کرنے کا شافی اہتمام وانتظام کیا، جس میں سب سے ضروری جسمانی سخت کوشی اور محنت کو قرار دیا گیااور اس مشقت کو آفاقی اقدار کے تابع رکھا تاکہ اُن کے بچے نہ صرف یہ کہ مضبوط جسم کے مالک ہوں بلکہ اُن کے دماغ بھی اعلیٰ پائے کے ہوں تاکہ وہ اپنے باپ دادا سے بھی بڑھ کے ہنر مند اور خود شناس ہوں اور یوں علوم و فنون کی نسل در نسل منتقلی اور ترقی نے یونان ، مصر،ترکی روس اور ایشائے کوچک کو صدیوں تک نہ صرف آباد رکھا بلکہ دنیا آج بھی ان کے اثرات کے زیرِ سایہ ہے۔
آیئے اسی تناظر میں زرا اپنا جائزہ لیتے ہیں۔ انفرادی طور پہ ہم ایک ذہین قوم ہیں جو اللہ کی عنایت ہے مگر اجتماعی طور پہ ہمارا کوئی قبلہ ہی نہیں ہے۔خود داری کی وہ صفت جو ہمیں ہماری صلاحتیوں کو اجاگر کرنے میں مدد دیتی ہے اس کی تلاش ہی ہم نے چھوڑ دی ہے ۔ہمارے وہ ادارے، یعنی گھر، معاشرہ ،تعلیمی اور حکومتی ادارے جو اپنے بچوں اور نوجوانوں کی جسمانی اور ذہنی نشو ونماکے بنیادی ستون اور ذمہ دار ہیں اُن کے پاس کوئی ایسا نظام اور طریقہء کار نہیں ہے کہ بچوں کی درست سمت میں راہنمائی ہو سکے۔ایک وقت تھا کہ گلی محلے کی سطح پہ بچے کھیل ہی کھیل میں بہت کچھ سیکھ لیتے تھے۔گاؤں میں موسمی کھیلوں اور تہواروں کا اہتمام کیا جاتا تھا ۔اس طرح زہنی اور جسمانی توانائی ایں اضافہ ہوتا تھا کام کرنے کی صلاحیت بڑھتی تھی۔ سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں صحت مندجسمانی اور ذہنی مقابلوں کا اہتمام ہوتا تھا ۔اب حالت یہ ہے کہ کھیل کے میدانوں کی جگہ پلازے کھڑے ہو گئے ہیں۔بچوں کی جسمانی صلاحیتیں گُھٹ کے رہ گئی ہیں کے رہ گئی ہیں۔روحانی اور ذہنی صلاٰحیتوں کو پروان چڑھانے کے لئے ادبی محفلوں کا انعقاد ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ایک وقت تھا جب رات کو سب بچے گھر کے بڑوں کے ساتھ بیٹھ کے اچھی اچھی کہانیاں سنتے اور پہلیاں بُوجھتے تھے، یوں اُن کی روحانی تسکین اورذہنی نشو و نما ہوتی۔ معاشرے کی سطح پہ لوگ محلے کے مرکزی مقام پہ اکھٹے ہوتے اور اسی طرح کی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا جس کی ایک مثال پشاور کا قصہ خوانی بازار ہے
اب کیاہو رہا ہے، والدین خود بھی سمارٹ فون پہ اُن کے غم شیئر کر رہے ہیں جن سے کوئی واسطہ ہی نہیں اوربچے بھی اپنے اپنے ٹیب اور فون پہ آنکھوں اور روح کا کباڑہ کر رہے ہیں۔اور موبائل کمپنیاں بارہ بجے کے بعد کے سستے پیکج دے کر منفی جذبات کو ہوا دے رہی ہیں۔لڑکیاں کبھی مائو ں کے ساتھ بیٹھ کر سلائی کڑھائی اور اچھے کھانے پکانے سیکھتی تھیں آج پیزہ اور فروزن فوڈز پہ چھپٹتی ہیں۔پھر ذرا ان کی صحت ملاحظہ فرمائیں چند قدم پیدل چلنا پڑے تو ہا نپنے لگتی ہیں۔
آج کی دنیا مقابلے کی دنیا ہے ہر گھنٹے بعد علم و ایجادات میں تبدیلیاں آ رہی ہیں ۔اگر ہمارے زمہ دار حلقوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے توپھر “ہماری داستاں بھی نہ ہو گی داستانون میں” اس کے لئے ہمیں اپنے تعلیمی نظام کی خبر لینی ہو گی جو کسی ایک دائرے کی بجائے چاروں طرف بکھرا ہوا ہے جس کا مقصد تو بے شک ہنر مند افراد پیدا کرنا ہے مگر عملی طور پر صرف بورڈ میں پوزیشن حاصل کرنے پہ ساری صلاحتیں صرف کی جا رہی ہیں اور روح کو قتل کیا جا رہا ہے اقبال نے فرمایا تھا
یوں قتل پہ بچو ں کے وہ بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
آج کے دور میں جوقومیں ترقی کے بامِِ عروج پہ ہیں اُ نکے نظامِ تعلیم کی صرف ایک مثال پیش کرتی ہوں جاپان میں پرائمری سکول کے بچوں کی صرف اخلاقی تربیت کی جاتی اور اس کے ساتھ ساتھ لڑکی اور لڑکے کی تخصیص کئے بغیر تمام بنیادی ہنر سکھائے جاتے ہیں جسمانی تربیت کے لئے تمام بچوں کو جوڈو کراٹے اور دیگر مشقت کے کام کروائے جاتے ہیں اور کوئی امتحان نہیں، جبکہ ہم پیدا ہوتے بچے کو امتحان کے خوف میں مبتلا کر دیتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ ہنر مندی میں اس وقت جاپان دنیا پہ چھایا ہوا ہے۔
اب ایک منظر چین کا دیکھتے ہیں۔سبزیوں کا ایک کھیت ہے جس کے ساتھ ایک نہر بہہ رہی ہے مگر نہر کا پانی کھیت سے نیچے ہے پانی کو کھیتوں تک پہنچانے کیلئے ایک عورت سائیکل پہ بیٹھ کے پیڈل چلا رہی ہے اور پائپ سے پانی کھیت میں جا رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے بچے کو بھی گود میں بہلا رہی ہے اور ہاتھوں سے اُس کا سویٹر بھی بُن رہی ہے اُدھر اُس کا شوہر کھیتوں میں کام کر رہا ہے۔ اب یہی بچہ تو بڑا ہو کے ایک ہنر مند شہری بنے گا نا کہ ایک پاکستانی جو کہ طبقوں میں بٹی قوم کا فرد ہے غریب کا بچہ سکول تک نہیں پہنچ سکتا امیر کا بچہ تعلیمی ادارے کو صرف تفریح گاہ سمجھتا ہے۔ہر آنے والی حکومت نصابِ تعلیم، طریقہء امتحان اساتذہ کی بھرتی پڑھانے کے طریقوں پہ نت نئے تجربے کرتی ہے۔ ایسے میں کہاں سے آئے صدائے اذاں لاالا اللہ

6 تبصرے “پگڈنڈیاں—جس قوم کے بچے—ڈاکٹر رابعہ تبسّم

  1. رسمی وغیررسسمی تعلیم کی بہترین انداز میں بیان کی گئی سوانح عمری ہے۔وسیروفی لارض کی وسیع ترین طریق سے وضاحت کی گئی ہے۔بیشک انسان اشرف المخلوقات ہے جسکی وجہ اللہ تعالیٰ کی ودیعت کر دہ بےشمار جسمانی وذہنی صلاحیتیں ہیں اور پھر انکاصیح اور بھرپوراستعمال کرتے ہوئےبطو ر فرادی قوت ملک وقوم کی ترقی کا باعث بننا ہی زندگی کا تقاضا ہے۔یہ تحر یر تعلیم کی مو جو دہ صورتحال کا بہترین تنقیدی جائزہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں