128

درد کی داستاں—–عائشہ نور

عائشہ نور

—درد کی داستاں—-

خوشیوں کا سفر موت کے فرمان میں بدل گیا۔۔۔۔ ہونی انہونی میں بدل گئی۔۔۔۔ جیتے جاگتے ہنستے بولتے جسموں پروحشت ناک آگ نے ایسا دھاوا بولا کہ وہ ہمیشہ کے لئے سو گئے۔۔۔۔
گھروں میں چہل پہل ہو رہی ہے۔۔۔۔ اماں جلدی کرو۔۔ مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔ ارے ارے۔۔۔ یہ کیا کر رہی ہیں۔۔۔۔ مجھے نہیں لے جانا کچھ۔۔۔ ہمارے کھانے کا پورا بندوبست ہے۔۔۔ آپ فکر ناں کریں۔۔۔۔ میری ساری چیزیں رکھ دیں۔۔۔
جلدی کریں۔۔۔ ٹرین نکل جائے گی۔۔۔۔ ابا نے جھٹ پٹ ٹیکسی منگوا لی اور ٹرین تک چھوڑنے کے لئے ساتھ ہو لئے۔۔۔۔
ٹرین بس نکلنے ہی والی تھی۔۔۔ بوگی نمبر 2 ہے ابا۔۔۔۔ نہیں ہماری بوگی نمبر 3 ہے۔۔۔۔ اچھا اللہ حافظ ۔۔۔ اپنا خیال رکھنا۔۔۔۔
جلدی جلدی۔۔۔ بوگی نمبر ایک ہے۔۔۔ دیکھو کہاں ہے۔۔۔ ارے وہ رہی۔۔۔۔
ٹرین کی سیٹی بج چکی ہے۔۔۔۔ ہاتھ تو چھوڑیں ابا۔۔۔۔ بچو سنبھل کر۔۔۔ کھڑکی سے منہ باہر مت نکالنا۔۔۔۔ اچھا سنو۔۔۔ انجانے سٹیشن پر مت اترنا۔۔۔۔ اوکے اوکے۔۔۔۔ اللہ حافظ۔۔۔۔
کسے پتہ تھا کہ اب یہ ہاتھ دوبارہ ناں پکڑا جائے گا۔۔۔ اب یہ لمس کبھی محسوس نہیں کر سکیں گے۔۔۔
کراچی سے پشاور جانے والی تیزگام ایکسپریس اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔۔۔ رات کی چادر اوڑھے سب مسافر اپنی منزل پر پہنچنے کے خواب سجائے ہوئے تھے۔۔۔ کہ موت کی گھڑی نے آن لیا۔۔۔
:جب مرے زخم مرا اپنا مقدر نکلے:
صبح کی کرنوں نے جیسے ہی سویرا پھیلانا شروع کیا۔۔۔ جیسے کی گھڑی کی سوئی نے چھے کا ہندسہ عبور کیا۔۔۔ تو تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لئے جانے والے مسافروں نے ناشتہ بنانے کے لئے سلنڈر جلایا۔۔۔۔ جو شومئی قسمت سے لیک تھا۔۔۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ بھڑک کر سلنڈر پھٹا اور آگ وحشت نے وہ کھیل کھیلا کہ روح بھی کانپ گئی۔۔۔ لوگ زندہ جلنے لگے۔۔۔ تڑپنے لگے۔۔ اپنوں کو یاد کرکے وحشت کی وہ آوازیں آنے لگیں کہ اللہ کی پناہ۔۔۔۔ دیکھتے دیکھتے آگ نے ٹرین کی تین بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔۔۔
ہولناک آتشزدگی سے بچنے کےلئے لوگ چلتی ٹرین سے چھلانگیں لگاتے رہے۔۔۔۔ بچے۔۔ بوڑھے جوان۔۔۔ ایک کے بعد ایک جیتے جاگتے وجود آگ کے لپیٹوں میں آتے رہے۔۔۔ اورسب کی آنکھوں کے سامنے 73 وجود جھلس گئے۔۔۔۔ اور 60 افراد جسم اور روح پر زخموں کے ساتھ اسپتالوں میں پہنچ گئے۔۔۔۔۔
کئی خاندان اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے کے لئے تڑپ رہے ہیں ۔۔۔ ان کو لحد میں اتارنے کے لئے کوشاں ہیں۔۔۔۔ لیکن یہاں بھی قسمت ہار گئی۔۔۔ ان کو پیغامات مل رہے ہیں کہ 53 جیتے جاگتے وجود جو ہنستے کھیلتے گھروں سے نکلے تھے آگ کی وحشت کے لپیٹے میں آ کر پہچان میں بھی نہیں آ سکتے۔۔۔۔ روح تو چھلنی تھی ہی۔۔۔ اب آنسو بھی خشک ہو رہے ہیں۔۔۔۔۔ آنکھوں کے جزیروں میں جو سمندر تھے وہ بہہ کر ختم ہو گئے۔۔۔۔
ہائے رے قسمت۔۔۔۔ کیسی انہونی ہو گئی۔۔۔۔ وہ بیٹا جس کا ہاتھ پکڑ کر ٹرین پر بٹھایا تھا۔۔۔۔ دھیان رکھنے کا بھی کہا تھا۔۔۔ وہ اب کبھی واپس نہیں آئے گا۔۔۔۔ باپ کی کمر توڑ گیا۔۔۔
مرنے والے تو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔۔۔ لیکن اپنے پیچھے بہت سوال چھوڑ گئے؟۔۔۔ شاید وہ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ چلتی ٹرین پر سلنڈر کیوں جلایا گیا۔۔۔۔ چلو سلنڈر جل گیا۔۔۔ لیکن وہ موت کے فرمان لانے والے سلنڈر آخر بوگی میں پہنچے کیسے۔۔۔۔۔
کیا اسٹیشن پر مسافروں کا سامان چیک کرنے والا عملہ آنکھیں بند کئے ہوئے تھا؟۔۔۔۔ کیا کسی نے انہیں نہیں روکا۔۔۔۔ آخر ان 73 جیتے جاگتے وجودوں کا قصور وار کون ہے؟۔۔۔۔
کیوں ریلویز کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔۔۔؟ کیوں آئے روز ریل حادثات میں سیکڑوں لوگ مارے جا رہے ہیں۔۔۔۔
دریا کنارے ایک کتا بھی مرے گا تو حاکم وقت سے سوال ہو گا۔۔۔۔ یہ نعرے لگانے والے حکمران کیوں ناں ابھی تک وزیر سے استعفی لے سکے۔۔۔ ؟ اتنا بڑا حادثہ ہو گیا۔۔۔۔ جس بظاہر دیکھنے میں سراسر ریلوے حکام کی نااہلی اور غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔۔۔ تو کیوں ناں وزیر کو فوری مستعفی ہونے کا حکم ملا۔۔۔۔ ؟
لیکن کہیں ناں کہیں یہ سوال بھی آتا ہے کہ 70 افراد کے جھلسنے اور 60 کے زخمی ہونے کے بعد بھی عوام نے یک زبان ہو کر احتجاج نہیں کیا۔۔۔۔ آخر کیوں؟۔۔۔۔
یہی اگر کسی جماعت کا جلسہ۔۔ مارچ یا دھرنا ہوتا تو اس جماعت کے ماننے والے جوق در جوق پہنچ جاتے۔۔۔ تو کیا یہ مان لیا جائے کہ ہمارے معاشرے میں انسانیت نہیں عہدے زندہ ہیں۔۔۔۔ ؟ ہمارا معاشرہ بے حسی کے اس مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے واپسی شاید ممکن نہیں۔۔۔۔

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

اپنا تبصرہ بھیجیں