171

دارالامان میں پناہ گزین یتیم بچیاں بااثر افراد کی جنسی ہوس کا شکار ،سپرنٹنڈنٹ دارالامان (کاشانہ )لاہور کے انکشافات

لاہور(سی این پی )لاہورکے دارالامان (کاشانہ )کی سپرنٹنڈنٹ افشاں نے پنجاب حکومت کے وزراء اور بیوروکریسی پرالزام عائد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ دارالامان (کاشانہ )میں رہنے والی یتیم لڑکیوں کو وزراء اور اعلی حکومتی افسران کے مطالبات پورے کرنے کے لئے غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں لالاہورکے دارالامان (کاشانہ )کی سپرنٹنڈنٹ افشاں نے بتایا کہ یتیم لڑکیوں کو پناہ اور کھانا دینے کی آڑ میں غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔سوشل میڈیاپر ایک اور ویڈیو میں انکا کہنا تھا کہ ان پر ڈائریکٹر جنرل سوشل ویلفیئر کی جانب سے دبا ئوڈالا جاتا ہے کہ وہ کچھ اعلی سرکاری افسران اور ایک صوبائی وزیر کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے کم عمر لڑکیوں سے شادی کرائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلی کی انسپیکشن ٹیم مستقل طور پر ان پر دبائو ڈال رہی ہے کہ وہ اپنا بیان واپس لیں اور اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ان کے محکمے کے لئے مختص کئے گئے بجٹ کو روک لیا جائے گا۔سوشل ویلفیئر کے زیر انتظام ادارے دارالامان (کاشانہ )میں کم عمر کی بچیوں کی شادیاں ودیگر گھنائونے جرائم بے نقاب کرنے والی خاتون پرشکایت واپس لینے کے لئے دبائوبھی ڈالا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس( ستمبر 2018 )میں مسلم لیگ ن کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے یہ انکشافات کئے تھے کہ لاچار اور بے بس یتیم لڑکیوں کو سرکاری افسران سے جنسی فعل کرنے پر مجبور کیا جا تا ہے جسکے بعد حنا پرویز بٹ نے اس شرمناک فعل کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کروائی تھی۔قراداد میں بھی دارالامان میں بے بس اور لاچار خواتین سے جسم فروشی کرائے جانے کا انکشاف کیا گیا تھا۔قرارداد میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ جو سرکاری افسران اور ملازمین اس شرمناک فعل میں ملوث ہیں ان کیخلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے،قراردار میں یہ بھی کہا گیا کہ دارالامان میں بے سہارا خواتین کو جنسی فعل کیلئے مجبور کرنا انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ دارالامان کا مقصد بے سہارا اور بے گھر ماں، بہنوں اور بیٹیوں کو تحفظ دینا ہے، لیکن اب یہاں بھی ان بہنوںاور بیٹیوں کی عزت محفوظ نہیں رہی۔حنا پرویزبٹ نے اپنی قرارداد میں سوال اٹھایا تھا کہ کیا حکومت سو رہی ہے ؟یا آنکھیں بند کر لی ہیں؟ دارالامان کے افسران اور ملازمین پناہ لینے والی بچیوں سے مکروہ عمل کرواتے ہیں، لہذا یہ ایوان ایسے گھنائونے جرم کی شدید مذمت کرتاہے۔قرارداد کے متن میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ دارالامان میں خواتین کی عزت کی پامالی کا نوٹس لیا جائے، جو سرکاری افسران اور ملازمین اس شرمناک فعل میں ملوث ہیں، ان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اس قرارداد کے بعد ایک سال گزرنے کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی جس سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں اور اب رکن پنجاب اسمبلی کے بعد سپرنٹنڈنٹ دارالامان (کاشانہ ) کے حالیہ انکشافات نے بھی اس الزام پر مہر ثبت کردی ہے کہ دارالامان میں پناہ گزین یتیم بچیاں بااثر افراد کی جنسی ہوس کا شکار ہورہی ہیں ان سنجیدہ الزامات کے بعد ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے بجائے پنجاب پولیس نے سپرنٹنڈنٹ کیخلاف کارروائی شروع کر دی سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں پنجاب پو لیس کے اہلکار دارالامان کا مرکزی دروازہ توڑ کر اند ر داخل ہوتے نظر آرہے ہیں ۔

لاہورکے دارالامان (کاشانہ )کی سپرنٹنڈنٹ افشاں نے ایک ویڈیو میں کہا کہ وہ نہیں جانتی ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہونا ہے اور اب انہیں کہاں لے جایا جائے گا۔اس ویڈیومیں انکے ہمراہ معصوم یتیم بچیاں بھی دکھائی دے رہی ہیں جو رو رہی ہیں اس میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ انکے خاوند کو گرفتار کر لیا گیا ہے ویڈیوپیغام کے اختتام پر دارالامان (کاشانہ )کی سپرنٹنڈنٹ افشاںنے عوام سے کہا ہے کہ ان یتیم بچیوں کی حفاظت کی ذمہ داری اب آپ پر عائد ہوتی ہے ،

ذرائع کے مطابق پنجاب پولیس نے سپرنٹنڈنٹ افشاںکو گرفتار کر لیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں