51

اٹکی سوئی—–پروفیسر یحیٰ خالد

پروفیسر یحیٰ خالد
yahyakhalid42@gmail.com

اٹکی سوئی

انتخابات میں دھاندلی ہوئی یا نہیں ہے مگر ہمیں ایک ایسی حکومت البتہ مل گئی کہ جس کے وزیر اعظم اب تک یہ نہیں سمجھ پائے کہ وہ اس ملک کے وزیر اعظم ہیں ۔ اور وزیر اعظم اپنی پارٹی کانہیں ہوا کرتا بلکہ وہ پورے ملک کا ہوتا ہے۔ملک میں اچھے لوگ بھی ہیں اور برے بھی ۔ چور بھی ہیں اور ساد بھی ۔ مگر یہ وزیر اعظم کا کام نہیں ہے کہ لوگوں کی ذاتیں ڈھونڈتا پھرے۔ وزیر اعظم کے لئے ساری عوام برابر ہے۔ یہ ایجنسیوں کا کام ہے کہ وہ دیکھے کہ چور کون ہے اور ساد کون ہے ۔ یہ اُن ایجنسیوں کا کام ہے کہ اگر کوئی چور ہے تو اُسے پکڑے اور اُس کو قرار واقعی سزا دے۔ البتہ وزیر اعظم کا یہ کام ہے کہ اگر کسی ڈاکویاچور کی سفارش اُن تک پہنچے تو وہ اُن کی سفارش نہ کرے چاہے سفارشی کتنا ہی وزیر اعظم کا قرابت دار کیوں نہ ہو۔اگر وزیر اعظم دنیا بھر میں یہ کہتا پھرے کہ میرے ملک میں چور ڈاکو رہتے ہیں اور یہ لوگ ایسے ہیں کہ جو حکومتوں میں رہے ہیں۔ اقتدار میں رہ کر انہوں نے ڈاکے مارے ہیں۔اگر ان چور لوگوں کی وارداتوں کے ثبوت حکومت کے پاس ہیں تو یہ ہمارے ملک کا اندرونی معاملہ ہے اس لئے اسے بغیر کسی باہر کے آدمی کو معلوم ہوئے اُن کے مقدمات چلیں اور اُن سے چوری کا مال برآمد کیا جائے۔ اگر ملک کا وزیر اعظم امریکہ ، انگلستان اور چین میں جا کر بتائے گا کہ ہمارے ہاں کی اشرافیہ چوروں ڈاکووں پر مشتمل ہے اور یہ بھی کہے کہ میرے ملک میں آ کر سرمایہ کاری کریں تو کوئی بے وقوف ہی ہوگا کہ جو کرپٹ اشرافیہ کے ہوتے ہوئے اس ملک میں سرمایہ کاری کرے گا۔در اصل ہمارے وزیر اعظم ابھی تک اپوزیشن کے دور سے واپس ہی نہیں آئے ہیں،اب ان کو کوئی دن رات ان کے کان میں یہ کہے کہ جناب آپ اپوزیشن میں بھی نہیں ہیں اور آپ الیکشن کمپین بھی نہیں کر رہے ہیں کہ بس اپنے حریفوں میں کیڑے نکالتے رہیں ۔ یہ لوگ اب آپ کے رعایا میں شامل ہو چکے ہیں اور اُن سے آپ نے عوام ہی کے طور پر ڈیل کرنا ہے۔ انہوں نے اگر خدا نخواستہ کچھ اپنے دور حکومت میں کیا بھی ہے تو وہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور اس کے ساتھ ڈیل کرنا وزیر اعظم کا کام نہیں ہے،اس کے لئے بہت سے ادارے موجود ہیں کہ جن کا کام ہی ان لوگوں سے نبٹنا ہے۔ وہ خود ہی چوروں ڈاکووں کا تعین کریں گے اور اُن سے نبٹیں گے۔وزارت عظمیٰ کا چارج سمبھالتے ہوئے جو پہلے دن تقریر کی تھی اُس سے پتہ چلتا تھا کہ واقعی عمران خان ملک کاوزیر اعظم ہو گیا ہے مگر جیسے ہی عمران خان اپنے اپنے مشیروں کے ہتھے چڑھا وہ پھر سے اپوزیشن لیڈر بن گیا ۔ اب اُن کے لئے ایک ایسا مشیر چاہیئے کہ جو اُن کو باور کروائے کہ خان جی آپ اس ملک کے وزیر اعظم ہیں اور ایک وزیر اعظم جب ایوان میں لیڈر آف دی ہاؤس کے طور پرآتے ہیں تو وہ وہاں لیڈر آف دی ہاؤس ہوتے ہیں اور اُن کو وہاں لیڈر آف اپوزیشن کو ملنا بھی پڑتا ہے اور اُس کی تنقید سن کو اُس کا جواب بھی دینا ہوتا ہے۔اس لئے کہ ایوان اسمبلی وہ جگہ ہے کہ جہاں پورے ملک کے لئے قانون سازی کرنی ہوتی ہے اور اس قانون سازی میں حزب اقتدار اورحزب اختلاف کا برابر کو حصہ ہوتا ہے اس لئے کہ یہ جمہوریت ہے اور اس میں بینچ بدلتے رہتے ہیں، آج کی حزب اختلاف کل کی حز بِ اقتدار ہو سکتی ہے اس لئے دونوں بنچوں کا ایک دوسرے سے مل کر کام کرنا ہوتا ہے اس لئے کہ دونوں بنچوں پر بیٹھے ہوئے لوگ پاکستانی عوام کے چنیدہ ہیں اور ان کو اُسی نظر سے دیکھنا چاہیئے۔ اس لئے کہ یہ لوگ پاکستان کی عوام کو ریپریزنٹ کرتے ہیں۔اس لئے ان کو بھی اُسی طرح کے حقوق ہیںجس طرح حزب ِ اقتدار کے ہیں ۔ ایک اور بات کہ ایوان ایک مقدس جگہ ہے جس میں مقدس زبان بولی جاتی ہے۔افسوس کی بات ہے کہ ہمارے قومی اسمبلی کے ایوان میں ایسے لوگوں کی اکثریت حزب اقتدار کے بینچوں پر بیٹھی ہے کہ جن کو لاری اڈہ میں ہونا چاہیئے۔ اگر ایوان میں قانون سازی کے بجائے چور اور ڈاکو کی گردان ہو گی تو پھر قانون سازی والی بات نہیں ہو سکتی۔ اب یہی دیکھیئے کہ ایک غلطی وزیر اعظم ہاؤس سے ہوئی۔ اُس کو ایک ایسا شخص سپریم کورٹ میں لے گیا کہ جس کاکام ہی ایسے مقدمات کے لئے ایک درخواست دینا ہے ۔ اور اس کا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ جس کا نوٹس چیف جسٹس نے لے لیا ۔ اور ایک نازک مسئلے کے حل کے لئے چیف جسٹس صاحب بار بار غلطیاں نکال کر وزیر اعظم ہاؤس بھیجتے اور ٹھیک کرواتے مگر وہاں اتنے لائق لوگ بیٹھے ہوئے ہیں کہ چار دفعہ کے بعد بھی غلطی اپنی جگہ ہی تھی۔مگر معاملہ اتنا نازک تھا کہ عدالت کو رعایت کرتے ہی بنی اور ساتھ ہی چھ ماہ کی مدت دے دی کہ قانون کو قومی اسمبلی سے ٹھیک کر کے لائیں۔ اب اس میں اپوزیشن کا تو نہ کوئی ہاتھ تھا اور نہ کوئی رول ۔ مگر وزیر اعظم صاحب نے نے وہی کچھ بولا جو اُن کی تکیہ کلام بن چکا ہے۔جب کہ وزیر اعظم ہاؤس اورایوان صدرر کا یہ حال ہے کہ جو ایڈوائس وزیر اعظم کی طرف سے جاتی ہے وہ آرمی چیف کی اپائنٹمنٹ کی جاتی ہے اورجو حکم ایوان صدر سے نکلتا ہے وہ آرمی چیف کی ایکسٹنشن کا ہوتا ہے ۔ اب اس میں ان چوروں ڈاکووں کی کیا غلطی ہے کہ وزیر اعظم بجائے اپنے نالائق مشیروں کو ڈانٹنے کے حزبِ اختلاف کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ اب یہ تکیہ کلام اگر وزیر اعظم صاحب ترک ہی کر دیں اور ملک کے وزیر اعظم بن جائیں تو شاید ملک میں کچھ ترقی کی صورت نکل آئے اور غریب بھی ٹماٹر خرید کر کھانے کے قابل ہو سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں