256

نظم–سانحہ پشاور–مریم شریف اعوان

سانحہ پشاور۔۔

تحریر–مریم شریف اعوان

جو ڈوبا ماہتاب تھا۔۔
جو نکلا آفتاب تھا۔۔
جو اس صبح کی رات تھی۔۔
پوشیدہ کوئی بات تھی۔۔
پھول جو کھلے نہ تھے۔۔
بہار سےملے نہ تھے۔۔
اک دھند تھی جو چھائی تھی۔۔
اجل کو لے کر آئی تھی۔۔
وہ صبح بھی کچھ اداس تھی۔۔
کوئی موت کو بھی پیاس تھی۔۔
وہ لفظ جو لکھے گئے۔۔
جو راز ان میں رکھے گئے۔۔
جو ماں کی آنکھوں میں خواب تھے۔۔
جو بچے مثل گلاب تھے۔۔
جو لفظ الوداعی تھے۔۔
بہنوں کے پیارے بھائی تھے۔۔
جو بدن پھولون کے کٹ گئے۔۔
کلیجے ماؤں کے پھٹ گئے۔۔
وہ لاشے جو سمیٹے تھے۔۔
اور کفن جو لپیٹے تھے۔۔
کرتی تھیں دیواریں بیاں۔۔
بارود و لہو کی داستاں۔۔
جو قرض لہو کا ہے چڑھ گیا۔۔
اور فرض ہے کچھ بڑھ گیا۔۔
وہ سب آج بھی دنگ ہیں۔۔
وہ سب کے سب لہو رنگ ہیں۔۔

نظم–سانحہ پشاور–مریم شریف اعوان” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں