قومی اسمبلی اجلاس، اپوزیشن کا پروڈکشن آرڈرز جاری نہ ہونے پر واک آئوٹ

اسلام آباد(سی این پی)دوسرے پارلیمانی سال کے آغاز پر قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے گرفتار رہنمائوں کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ ہونے پر ایوان سے واک آئوٹ کیا۔قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کے زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں ہوا۔ پارلیمانی سال کے آغاز پر ہونے والے پہلے اجلاس میں اپوزیشن نے گرفتار ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہ ہونے کے خلاف احتجاج کیا۔خواجہ آصف نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کے باوجود چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کامران مائیکل کے پروڈکشن آرڈرز جاری کر سکتے ہیں تو سپیکر اپنے ارکان کے کیوں جاری نہیں کرتے؟سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ سب سے زیادہ پروڈکشن آرڈرز انہوں نے ہی جاری کئے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ سب سے زیادہ پروڈکشن آرڈرز آپ نے ہی جاری کرنا تھے کیونکہ سب سے زیادہ ارکان گرفتار بھی تو آپ ہی کے دور میں ہوئے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا پروڈکشن آرڈرز جاری کرنا یا نہ کرنا سپیکر کا استحقاق ہے، اگر اپوزیشن کو مسئلہ ہے تو عدالت سے رجوع کریں۔اسد عمر نے سابق صدر آصف زرداری کے مہاجروں اور بلاول بھٹو زرداری کے سندھو دیش کے بیانات کا حوالہ دیا تو خورشید شاہ بولے کون وفاق کو منتشر کرنے کی بات کر رہا ہے؟ حکومت خواہ مخواہ ایشو بنا رہی ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بلاول کو مشورہ دیا کہ وہ سندھ کارڈ مت کھلیں، یاد رکھیں پختونستان والے پٹ گئے، سندھو دیش کا نعرہ لگانے والے پٹ جائیں گے۔اجلاس میں ہائوسنگ اتھارٹی آرڈیننس کی منظوری دی گئی۔ اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کی جو پورا نکلا، اپوزیشن نے صدارتی آریڈیننسز کے خلاف ایوان سے واک آئوٹ کیا۔ اجلاس پیر شام پانچ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں