امریکی سینیٹر کی ٹرمپ مودی ریلی پر تنقید، مسلم ڈے پریڈ میں کشمیر خصوصی توجہ کا مرکز

نیویارک(سی این پی) امریکی سینٹر اور ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدواروں کی دوڑ میں شامل برنی سینڈرز نے ہیوسٹن میں ٹرمپ مودی ریلی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔برنی سینڈر نے ایک جریدے ہیوسٹن کرونکل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ نریندر مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی کا اہتمام ایسے وقت میں کیا گیا جب کشمیر محاصرے میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب صدر ٹرمپ ہیوسٹن میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کرتے ہیں تو ہم امریکیوں اور بھارتیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی دوستی کے بارے میں بہت کچھ سنتے ہیں۔امریکی سینیٹر نے مزید کہا کہ لیکن جب ہماری آنکھوں کے سامنے جنم لینے والے انسانی بحران کی بات ہوتی ہے تو مکمل خاموشی پائی جاتی ہے جیسے سب بہرے ہیں جو ناقابل قبول ہے۔ادھر نیویارک کے میڈیسن ایونیو میں 35ویں سالانہ مسلم ڈے پریڈ کے موقع پر کشمیر اور مسلمانوں کے اتحاد پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔پریڈ میں 3ہزار سے زائد لوگوں نے شرکت کی۔ میڈیسن ایونیو سے مارچ کرنے والے زیادہ تر لوگوں نے مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور اسلام کے خلاف پائے جانے والے تعصب کی مذمت کی۔پریڈ کے چیئرمین فارس فیاض نے صحافیوں کو بتایا کہ اس سال ان کی توجہ کا مرکز کشمیر ہے کیونکہ وہاں کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ عالمی برادری کا زیادہ تر حصہ خاموش اور بھارتی حکومت کی خوش آمد میں لگا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں