مسلمان نفرت انگیزتقاریرکا آسان ہدف ہیں، ترک صدر

نیویارک(سی این پی)ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں نفرت انگیزتقاریرسے سب سے زیادہ مسلمان متاثرہوئے ہیں ۔پاکستان اورترکی کی مشترکہ میزبانی میں نفرت انگیزبیانیوں اورتقاریرکے تدارک کے موضوع پراقوام متحدہ میں اعلی سطح کے اجلاس سے خطاب کے دوران رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ انسانیت کے خلاف جرائم سے پہلے نفرت انگیز تقاریرجنم لیتی ہیں۔ دنیا بھرمیں مسلمان ان تقاریر کا آسان ہدف ہیں۔ترک صدر نے مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں سے نفرت کو فروغ دیا جارہا ہے۔ گائے کا گوشت کھانے پر مسلمانوں کو زندہ جلادیا جاتا ہے۔ پورا مقبوضہ کشمیر جیل کی شکل اختیار کرچکا ہے اور وہاں قتل عام کا خدشہ ہے۔طیب اردوان نے آزاد جموں و کشمیراور پاکستان میں حالیہ زلزلے سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔اس سے قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں بھی ترک صدر کا کہنا تھا کہ عالمی برادری جن مسائل پر توجہ دینے میں ناکام رہی ہے ان میں سے ایک کشمیر کا تنازع بھی ہے جو 72 سال سے حل طلب ہے۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ وادی کشمیر میں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے اور دنیا خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجود کشمیر اب بھی محاصرے میں ہے اور 80 لاکھ افراد وہاں محصور ہیں جو باہر نہیں نکل سکتے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے بنیادی ڈھانچے میں ہی نقص ہے۔ یہ کیسے قابل قبول ہوسکتا ہے کہ 191 ممالک کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے 5 ملکوں کے فیصلے کا انتظار کریں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں