پاکستان، ترکی اور ملائیشیا کا مشترکہ انگریزی چینل شروع کرنے کا فیصلہ

نیویارک(سی این پی)پاکستان، ترکی اور ملائیشیا نے مشترکہ انگریزی چینل شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ وزیراعظم نے کہا چینل کا مقصد دنیا کو اسلام کے بارے میں آگاہی دینا اور غلط فہمیاں دور کرنا ہے۔ایک ٹویٹ میں وزیر اعظم عمران خان نے بتایا ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد سے ملاقات ہوئی، ترکی، ملائشیا اور پاکستان نے اسلامو فوبیا سے نمٹنے کیلئے مشترکہ انگریزی چینل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، چینل سے مسلمانوں کیخلاف تاثر کو درست کیا جائے گا۔عمران خان کا کہنا تھا مشترکہ چینل پر مسلمانوں کی تاریخ پر پروگرام اور فلمیں پیش کی جائیں گی، چینل کا مقصد عالمی میڈیا میں مسلمانوں کی نمائندگی کو یقینی بنانا ہے، مشترکہ چینل ہمارے مذہب کی صحیح ترجمانی کرے گا، چینل کے ذریعے ناموس رسالتﷺ کو صحیح پیرائے میں پیش کیا جائے گا۔وزیر اعظم عمران خان کی ملائشیا کے ہم منصب مہاتیر محمد سے اہم ملاقات ہوئی، جس میں مقبوضہ کشمیر، باہمی دلچسپی اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، وزیراعظم میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مہاتیر محمد نے کہا مسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کیا جائے، وزیراعظم عمران خان نے ملائشیا کے ہم منصب کے بیان کو سراہا، دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور ملائشیا کے باہمی تعلقات بڑھانے پر اتفاق کیا۔قبل ازیں پاکستان، ترکی اور ملائشیا کا سہ فریقی اجلاس ہوا، جس میں وزیر اعظم عمران خان، ترک صدر طیب اردوان اور ملائشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد بھی شریک ہوئے، تینوں ممالک کی جانب سے خطے اور عالمی سطح پر رونما ہونے والے واقعات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ نیو یارک ٹائمز کے ادارتی بورڈ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدام نے خطے کا امن خطرے میں ڈال دیا، وہ وادی میں عالمی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے، خونریزی کا خدشہ ہے، عالمی طاقتیں خاموش نہیں رہ سکتیں، اس صورتحال سے بچائو کے لئے عالمی برادری فوری اقدام اٹھائے اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کردار ادا کرے، پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے اور امن عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے۔وزیراعظم سے وال سٹریٹ جرنل کے ادارتی بورڈ نے بھی ملاقات کی ، وزیراعظم نے مقبوضہ وادی میں بھارتی مظالم سے متعلق آگاہ کیا، عمران خان نے کہا عالمی طاقتیں مودی کو مجبور کریں کہ مقبوضہ کشمیرمیں مبصرین کو آنے کی اجازت دے، عالمی میڈیا مودی کا اصل چہرہ بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، افغانستان میں امن سے سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا، امریکا طالبان مذاکرات بحال ہونے چاہئیں، ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہے، مشکل وقت گزر چکا، کاروبار اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں