جمال خاشقجی کا قتل، امریکی صحافی کا سعودی ولی عہد سے متعلق بڑا دعوی

نیویارک(سی این پی)ایک امریکی صحافی نے دعوی کیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی ذمے داری قبول کی ہے کیونکہ یہ ان کے اقتدار کے دوران ہوا تھا۔یہ دعوی امریکی چینل کے صحافی مارٹن اسمتھ نے ایک دستاویزی فلم کے پری ویو میں کیا ہے۔ان کے مطابق سعودی ولی عہد کا کہنا تھا کہ میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتاہوں کیونکہ یہ میرے اقتدار کے دوران ہوا۔اسمتھ کے مطابق ان کی سعودی ولی عہد سے ملاقات دسمبر 2018 میں ریاض کے قریب ایک الیکٹرک کار ریس کے موقع پر ہوئی، ریسٹورنٹ میں ملاقات کے دوران سعودی ولی عہد نے کہا کہ انہیں جمال خاشقجی کے قتل کی منصوبہ بندی کا علم نہیں تھا۔ جب ولی عہد سے پوچھا گیا کہ ان کے علم میں لائے بغیر یہ کیسے ہوسکتا تھا تو انہوں نے کہا کہ ان کے پاس 2 کروڑ لوگ اور 30 لاکھ سرکاری ملازمین ہیں، وہ مختلف امور کو دیکھتے ہیں۔اس سوال پرکہ کیا قاتل سرکاری جیٹ طیارہ بھی لے جاسکتے تھے؟ شہزادہ محمد نے کہا کہ میرے پاس حکام اور وزرا ہیں جو معاملات کو دیکھتے ہیں۔ ان کے پاس ایسا کرنیکا اختیار ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دستاویزی فلم جمال خاشقجی کی پہلی برسی کی مناسبت سے تیارکی گئی جو یکم اکتوبر کوامریکی چینل پر نشر کی جائیگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں