اگلا افغان صدر کون ہوگا؟ فیصلہ چند روز بعد ہوگا

کابل(سی این پی) افغانستان میں صدارتی انتخابات میں ووٹنگ کا عمل گزشتہ روز مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے شروع ہوا جو سہ پہر تین بجے تک تھا تاہم افغان الیکشن کمیشن نے ووٹ کا دورانیہ دو گھنٹے بڑھایا جس کے بعد پولنگ 5 بجے تک جاری رہی۔تفصیلات کے مطابق افغان صدارتی الیکشن میں صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور گلبدین حکمت یار سمیت 18 امیدوار میدان میں ہیں، گزشتہ روز سخت سیکیورٹی میں افغان عوام نے صدارتی انتخابات کے لیے حق رائے دہی استعمال کیا، ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور ابتدائی نتائج کا اعلان 17 اکتوبر کو کیے جانے کا امکان ہے۔دوسری جانب افغان صدارتی انتخابات کے موقع پر بھی طالبان کی جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری رہا اور کئی شہروں میں پولنگ اسٹیشن پر حملے کیے گئے۔افغان حکام کے مطابق افغانستان میں انتخابی عمل کے دوران متعدد حملے ہوئے جن میں سے زیادہ تر حملوں کو سیکیورٹی اہلکاروں نے ناکام بنایا، حملوں میں 5 سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور 37 زخمی ہوئے۔واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے مختلف علاقوں میں پمفلٹ تقسیم کیے گئے تھے جس میں عوام کو الیکشن کے دن گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی تھی۔افغان طالبان نے اپنے پیغام میں پولنگ اسٹیشنز پر تعینات پولیس اہلکاروں کو خاص طور پر نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی۔ افغانستان کے صدارتی انتخابات میں اٹھارہ امیدوارمیدان میں ہیں تاہم موجودہ صدراشرف غنی اورافغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں