وزیراعظم نے سرکاری اداروں میں شہریوں کو خدمات کی فراہمی میں تاخیر کا نوٹس لے لیا

اسلام آباد(سی این پی) وزیراعظم نے سرکاری اداروں کی جانب سے شہریوں کو خدمات کی فراہمی میں تاخیر کا نوٹس لے لیا۔وزیراعظم آفس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ لائسنس، این او سی اور ڈومیسائل کے حصول کے لیے شہریوں کی بے شمار درخواستیں تعطل کا شکار ہیں، سرکاری ادارے سروس ڈیلیوری سے متعلق شہریوں کی درخواستوں پر عملدرآمد فوری یقینی بنائیں۔وزیراعظم آفس نے کہا ہے کہ سرکاری ادارے 4 ہفتوں بعد مکمل رپورٹ وزیراعظم اور وزیراعلی کو بھجوائیں، ادارے رپورٹ میں بتائیں کہ سروس ڈیلیوری سے متعلق شہریوں کی کتنی درخواستوں پر کام ہوا، وزیراعظم چاہتے ہیں کہ شہریوں کا سرکاری اداروں پر اعتماد بحال ہو، ادارے اپنی ویب سائٹ یا نوٹس بورڈ پر سروس ڈیلیوری سے متعلق ٹائم لائن چسپاں کریں، ٹائم لائن دینے کامقصد یہ ہے کہ شہریوں کومعلوم ہو کہ ان کی درخواست پر کتنا کام ہوچکا ہے۔وزیراعظم آفس کی جانب سے مزید کہا گیاہے کہ درخواست پر عمل نہ ہوسکے تو ہر روز درخواست گزار کو تاخیر کی وجوہات بتائی جائیں، تمام وفاقی سیکریٹریز اور چیف سیکریٹریز ان ہدایات کی مسلسل نگرانی کریں، ہر3 ماہ بعد رپورٹ پیش کریں، وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں اقدامات متعلقہ افسر کی کارکردگی پر بھی اثرانداز ہوں گے جب کہ ہدایات پر عملدرآمد میں کسی قسم کی غفلت ای اینڈ ڈی قوائد کی روشنی میں نااہلی تصور ہوگی، ای اینڈ ڈی قوائد میں افسران کی نااہلی سامنے آنے پر رولز کے مطابق کارروائی ہوگی لہذا گڈ گورننس اور عوامی مفاد میں تمام وفاقی اور چیف سیکریٹریز ان ہدایات پر عملدرآمد کی نگرانی کریں۔وزیراعظم نے تمام وزارتوں اور صوبوں کو شہریوں کی درخواستیں 4 ہفتوں میں نمٹانے کی ہدایت کی ہے اور ساتھ ہی تمام وزرائے اعلی کو اپنے صوبوں میں ان ہدایات پرعملدرآمد کے حوالے سے وزیراعظم کو آگاہ کرنے کا کہا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں