اپوزیشن کے پاس احتجاج کے سوا کوئی آپشن نہیں، آصف زرداری

اسلام آباد(سی این پی)سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ عوام کو مسائل سے نکالنے کے لیے اپوزیشن کے پاس احتجاج کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔جعلی بینک اکانٹس کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی زیر صدارت جاری ہے۔سماعت کے موقع پر آصف علی زرداری اور فریال تالپور سمیت دیگر ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا جب کہ تاخیر سے پہنچنے پر عدالت نے نیب کے تفتیشی افسر کی سرزنش کی۔جج نے نیب کے تفتیشی افسر سردار مظفر سے کہا کہ آپ کا انتظار کر رہے ہیں اور آپ اب پہنچے ہیں؟ آپ صبح پہلے رپورٹ کیا کریں، یہ نہیں ہو گا کہ سب یہاں آپ کا انتظار کرتے رہیں۔تفتیشی افسر نے اپنے دلائل میں کہا کہ نیب نے بیرون ملک ملزمان کی واپسی کے لیے وزارت داخلہ سے رجوع کیا ہے، بیرون ملک موجود دو ملزمان کو انٹرپول کے ذریعے لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔سردار مظفر نے عدالت کو بتایا کہ یونس کوڈواوی اور اعظم وزیر کے ریڈ وارنٹ کی درخواست وزارت داخلہ کو دی تھی، ضمنی ریفرنس پر چیئرمین نیب کی منظوری ہونا باقی ہے، آئندہ سماعت تک ضمنی ریفرنس بھی دائر کر دیں گے۔احتساب عدالت پیشی کے موقع پر آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری میں طویل مشاورت بھی ہوئی۔احتساب عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ہم مولانا کے مارچ کو سپورٹ کر رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان کے مارچ کی کامیابی سے متعلق سوال پر آصف زرداری نے جواب دیا انشااللہ، ہماری دعائیں مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہیں۔سابق صدر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا مقصد واضح ہے کہ حکومت کو مزید وقت دینا ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو مسائل سے نکالنے کے لیے اپوزیشن کے پاس احتجاج کے سوا کوئی آپشن نہیں ہے۔آصف زرداری نے کہا کہ تمام جمہوری پارٹیوں کو اب مل کر عملی جدوجہد کرنا ہو گی اور پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں ملک وقوم کے مفاد میں فیصلے کیے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ مولانا میرے دوست ہیں لیکن سیاست چیئرمین بلاول نے کرنی ہے، مولانا کی اپنی جماعت اور سیاست ہے لیکن ہماری دوستی رہے گی۔چیئرمین نیب کی تعیناتی سے متعلق سوال پر آصف زرداری نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی چیئرمین نیب کی تقرری پر معافی مانگ چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں