احتجاج میں جو کچھ بھی ہوا مخصوص انتہاء پسندوں نے کیا،وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر

مظفر آباد (سی این پی) وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر انوار الحق چودھری نے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاج میں جو کچھ بھی ہوا مخصوص انتہاء پسندوں نے کیا، احتجاج کے دوران پولیس افسر کی شہادت افسوسناک ہے۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیر انوار الحق نے کہا ہے کہ حکومت کبھی مذاکرات سے پیچھے نہیں ہٹی، سیاسی حکومت بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالتی ہے، ایکشن کمیٹی کو پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں، کمشنر اور ڈپٹی کمشنرز کے استعفوں کی خبریں بے بنیاد ہیں، سوشل میڈیا پر بے بنیاد پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر چودھری انوار الحق نے کہا کہ آٹے اور بجلی کی قیمتوں پر ریلیف دینے کیلئے ترقیاتی بجٹ سے بھی کٹ لگانا پڑا تو لگائیں گے، جو مطالبات حکومت پاکستان سے جڑے ہیں انہیں وفاق کے سامنے اٹھایا جائے گا، آزاد کشمیر میں حکومت کی تحمل کی پالیسی کی بدولت جانی نقصان نہیں ہوا، جلاؤ ،گھیراؤ کے باوجود آزادکشمیر پولیس صبر کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی سکیورٹی ہماری ترجیح ہے، حکومت نے یقینی بنایا کہ احتجاج کے دوران طاقت کا استعمال نہ ہو، احتجاج کرنے والوں میں کچھ شر پسند تھے، عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے نتیجے میں ایک معاہدہ ہوا ، حکومت اس معاہدہ پر عملدرآمد کیلئے پُرعزم ہے، آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں ریلیف کیلئے عوام ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں مہنگی بجلی کیخلاف ہونے والا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے، احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان متعدد مقامات پر جھڑپیں ہوئیں اور فائرنگ سے سب انسپکٹر شہید اور 3 اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔

آزاد کشمیر میں مہنگی بجلی کیخلاف ریاست گیر پہیہ جام ہڑتال کو دو روز ہو گئے ہیں، عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک اس وقت پُرتشدد رُخ اختیار کر چکی ہے، میرپور میں مظاہرہ خونی تصادم میں تبدیل ہو گیا، مشتعل مظاہرین کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ اور فائرنگ کی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں