ہندو مسلم سیاست میں بی جے پی کا خطرناک کھیل…..قادر خان یوسف زئی

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کی طرف سے بنے ہوئے حالیہ انتخابی حکمت عملیوں سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور جمہوری اقدار کے نازک تانے بانے کو تباہی کا سامنا ہے۔ سیاسی فائدے کے لیے ہندو مسلم فالٹ لائنز کا استحصال کرنے والی سٹریٹجک پلے بک کے ساتھ، بی جے پی کے حربے بھارت کے متنوع اور جامع معاشرے کے وجود کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ انتخابی کامیابی کے لیے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان منافرت پیدا کرکے، ہندو ازم کی سیاست کا فائدہ اٹھانے کا، بی جے پی کا طریقہ کار ڈھٹائی کے ساتھ ساتھ خطرناک بھی ہے۔ وزیر اعظم مودی کی بیان بازی، جو اکثر مسلم دشمنی میں فرقہ وارانہ لہجے سے لدی ہوتی ہے، مسلمانوں کو متنازع بنا کر کمیونٹیز کو پولرائز کرکے ہندو ووٹوں کے حصول مقصود ہے۔ اس طرح کے ہتھکنڈے نہ صرف سیکولرازم کے اصولوں کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ شہریوں میں عدم اعتماد اور دشمنی کے بیج بھی بوتے ہیں۔ اس تفرقہ انگیز حکمت عملی کی ایک حالیہ مثال بی جے پی کی جانب سے آبادی کے اعداد و شمار کا خوف اور شکوک پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنا ہے۔ انتخابات سے عین قبل آبادی کے رجحانات پر روشنی ڈالنے والی رپورٹ کے اجراء کا وقت سیاسی جوڑ توڑ کا شکار ہے، جس کا مقصد ووٹروں میں خوف پیدا کرنا اور انہیں بی جے پی کے ہندو قوم پرست ایجنڈے کی طرف لے جانا ہے۔ اس طرح کے اقدامات نہ صرف سیاست اخلاقی طرز عمل کو نظر انداز بلکہ سیاسی مصلحت کے لیے سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
بی جے پی کا تاریخی ٹریک ریکارڈ، خاص طور پر مسلمانوں کو پسماندگی کے حوالے سے، مودی کی موجودہ دور کی پالیسیوں پر ایک طویل تسلسل کے ساتھ مسلط کیا جارہا ہے۔ بابری مسجد کے متنازع انہدام سے لے کر پارٹی کے اندر اقتدار کے عہدوں سے مسلمانوں کو منظم طریقے سے خارج کرنے تک، بی جے پی کے اقدامات ثقافتی بالا دستی اور مذہبی امتیاز کی ایک پریشان کن تصویر پیش کرتے ہیں۔ ہندو قوم پرستی کے یہ مظاہر نہ صرف اقلیتی برادریوں کو الگ کررہے ہیں بلکہ خوف اور عدم تحفظ کی ثقافت کو بھی جنم دے چکے ہیں۔ داخلی اثرات سے ہٹ کر، بی جے پی کی تفرقہ انگیز سیاست بین الاقوامی سطح پر دوبارہ گونج رہی ہے، جس سے سیکولر اور تکثیری جمہوریت کے طور پر بھارت کی ساکھ خراب ہو چکی ہے۔ جمہوری اصولوں کا کٹائو، اختلاف رائے کو دبانا، اور سیاسی فائدے کے لیے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہتھیار بنانا عالمی میدان میں جمہوریت کی روشنی کے طور پر بھارت کے موقف کو کمزور کر چکا ہے۔ مودی نے بھارت کی رہی سہی جمہوری اقدار کو سبوتاژ کر دیا ہے ۔ سول سوسائٹی بھی مودی کی فرقہ وارانہ بیان بازی سے پریشان ہے اور شمولیت اور رواداری کی اقدار کو برقرار نہ رکھے جانے پر تحفظات کا اظہار کر رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں ہندو توا کے متشدد بیانیہ کو روکنے میں ناکامی کا شکار نظر آتے ہیں ، وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کس طرح مودی کے ہتھکنڈوں کا مقابلہ کریں۔ بین الاقوامی مبصرین کو بھارت میں جمہوری اصولوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہیے۔
ہندو مسلم منافرت کی سیاست کا بی جے پی کا خطرناک کھیل بھارت کی جمہوریت کی بنیاد کو ہی نقصان پہنچا چکا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) کے حالیہ اقدامات اور بیان بازی نے بھارت میں جمہوریت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی حالت کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔ ووٹ حاصل کرنے کے لیے ہندو مسلم سیاست کو ایک حربے کے طور پر استعمال کرنے کی بی جے پی کی حکمت عملی نہ صرف تفرقہ انگیز ہے بلکہ ملک کے سماجی تانے بانے اور جمہوری اقدار کے لیے بھی ایک اہم خطرہ ہے۔ مسلمانوں کو ہندو اکثریت کے لیے خطرہ کے طور پر پیش کرکے ہندو مفادات کو آگے بڑھانے کی بی جے پی کی کوششیں مودی کی تقاریر اور پارٹی کی انتخابی مہم میں واضح نظر آتی ہیں۔ مودی کے اشتعال انگیز ریمارکس، مسلمانوں کو ’’ در انداز‘‘ قرار دیتے ہوئے اور ان پر ہندوئوں کو بے گھر کرنے کے لیے زیادہ بچے پیدا کرنے کے الزام نے بڑے پیمانے پر مذہبی اقلیتوں میں تشویش کی لہر بڑھا چکے ہیں۔
وزیراعظم کی اقتصادی مشاورتی کونسل کی ایک رپورٹ کے اجرائی، جس میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ اور ہندو آبادی میں کمی کو نمایاں کیا گیا ہے، نے ووٹروں میں تنائو اور خوف کو مزید ہوا دی ہے۔ اس رپورٹ کا وقت، انتخابات سے عین قبل، اس کے ارادے اور بی جے پی کے آبادیاتی اعداد و شمار کو کمیونٹیز میں تقسیم اور خوف کے بیج بونے کے لیے استعمال کرنے کے مقاصد پر سوال اٹھایا ہے۔ مذہبی خطوط پر ووٹروں کو پولرائز کرنے، ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کرنے اور نفرت انگیز تقریر میں ملوث ہونے کے بی جے پی کے ہتھکنڈوں نے سیکولرازم اور مساوات کے اصولوں کو ختم کر دیا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کو ہندو مخالف کے طور پر پیش کرنے اور سیاسی فائدے کے لیے فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینے کی بی جے پی نے منافرت کی سیاست کو عروج دیا ہے ۔ جس کی وجہ سے جمہوری عمل اور سماجی ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ بی جے پی کے اندر مسلمانوں کی نمائندگی کا فقدان اور مسلم یادگاروں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کی پارٹی کی تاریخ، جیسا کہ بابری مسجد کی تباہی میں دیکھا گیا، ثقافتی ہم آہنگی اور مذہبی اقلیتوں کو خارج کرنے کے وسیع ایجنڈے کو اجاگر کرتا ہے۔ ہندو قوم پرستی کا عروج اور معاشرے کے مختلف پہلوئوں میں مسلمانوں کی پسماندگی مودی کی قیادت میں تیز ہوئی ہے، جس کی وجہ سے مسلم کمیونٹی میں خوف اور امتیاز میں اضافہ ہوا ہے۔
بی جے پی کی تفرقہ انگیز سیاست اور مسلم مخالف بیان بازی نے نہ صرف بین الاقوامی سطح پر بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ ملک میں جمہوریت کے مستقبل کے بارے میں بھی تشویش پیدا کردی ہے۔ جمہوری اداروں کا کٹائو، اختلاف رائے کو خاموش کرانا، اور سیاسی فائدے کے لیے انتخابی عمل میں ہیرا پھیری ایسے خطرناک رجحانات ہیں جو بھارت کی جمہوریت کی بنیاد کے لیے خطرہ ہیں۔ ہندو مسلم سیاست میں بی جے پی کا خطرناک کھیل بھارت کی جمہوریت اور سماجی ہم آہنگی کے لیے واضح خطرہ ہے۔ سول سوسائٹی، اپوزیشن جماعتوں، اور بین الاقوامی مبصرین کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ان تفرقہ انگیز حربوں کے خلاف آواز اٹھائیں اور بھارت میں تمام کمیونٹیز کے لیے شمولیت، رواداری اور احترام کو فروغ دینے کی سمت کام کریں۔ مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف مسلسل نفرت اور تعصب پر اشتعال انگیز مہم نے خطے میں دو ایٹمی ممالک کے درمیان کشیدگی کو بڑھا دیا ہے ، جس کا واحد مقصد مودی کا انتخابات میں کامیابی ہر قیمت پر حاصل کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں