شاندار محفل موسیقی و مشاعرے

خیبر پختونخوا کی سرزمین جہاں سیاست،  مذہب،  تمدن، کھیل اور فن و ثقافت کے شعبوں میں مردم خیز رہی ہے وہاں اس عظیم مٹی نے اد ب کے میدان میں بھی عظیم سپوت پیدا کیے ہیں۔صوفی شاعر رحمن بابا، خوشحال خان خٹک کے ساتھ ساتھ خاطر غزنوی، رضا ہمدانی،فارغ بجاری، محسن احسان،  قتیل شفائی اور  احمد فرازجیسے بے پناہ صلاحیتوں کے مالک شاعر و ادیب بھی پیدا کئے ہیں۔ (جگہ کی کمی کی وجہ سے صرف چند شعرائ کا نام لکھا)  پشاور صوبہ کا دارلحکومت ہونے کے ساتھ ساتھ ان سب کا محور اور مرکز بھی ہے۔ اس سوہنی دھرتی کے پیارے پیارے ادارے مختلف قومی خدمات میں مصروف ہیں وہاں پر شعر و ادب کی ترویج کے لئے بھی کئی سرکاری و غیر سرکاری ادارے اور تنظیمیںبرسر پیکار ہیں جو صوبہ بھر کے فنکاروں،  ادیبوں اور شعرائ کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔  یہاں سے جہاںقومی زبان اردو کی ترقی وترویج کی کوششیں ہوتیں ہیں وہیں پر علاقائی زبانوں کے ادبائ و شعرائ کی تخلیقوں کو بھی بھرپور پزیرائی دی جاتی ہے۔  اس طرح پورے خطے کی ساری زبانوں اور ہر ثقافت کو پوری پوری نمائندگی دی جاتی ہے ۔ قومی زبان کے علاوہ ہر علاقائی زبان کی ترویج وترقی کے لئے مناسب اقدامات کئے جاتے ہیں۔ صوبہ بھر کی طرح پشاور میں ہندکو، اردو، پشتواور سرائیکی کے شعرائ کو نہ صرف اپنا کلام پیش کرنے کے لئے پلیٹ فارم مہیا کیا جاتاہے کہ وہ اپنے شعری زوق کو پورا کرسکیںاور صوبہ بھر کے عوام ان کے فن سے متعارف ہوکر اپنے ہنر کی داد پاسکیں۔

 اَسی کی دھائی سے پشاور میں اتنے بم دھماکے ہوئے کہ پوراپشاور ان سے گونج اٹھا۔ ان دھماکوں نے پورے شہر کو تباہ کیا وہاں پر پھولوں کے شہر کی ساری خوبصورتی کو مانند کیا۔لیکن زندہ دلان پشاور نے اسے پھر سے پررونق بنانے کےلئے شبانہ روز کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں اور مایوسی کی بجائے اپنے نوجوانوں کو مثبت مصروفیات کی طرف مائل کررکھاہے۔ ہر ہفتے نہیں تو ہر مہینے تو ضرور شہر میں کسی نہ کسی محلے یا علاقہ میں مشاعرے ہورہے ہیں یو ں ان حالات میں بھی ادب پنپ رہاہے۔ گزشتہ دنوں عید ملن مشاعرے اور محافل ہوئیں ان کی فرداً فرداً روداد سنانے کو جی تو بہت چاہتاہے تاہم جگہ کی قلعت کی وجہ سے ان کازکرکرنے پر اکتفائ کرلیتے ہیںکہ جن میں میں نے خود شرکت کی ان میں حلقہ ارباب زوق اور بزم بہار ادب پشاور کے زیر اہتمام خوبصورت اور بھرپور مشاعرے ہوئے۔  اسی سلسلہ کی ایک کڑی کے طور پرایک اور رنگ برنگی گلدستہ تنظیم ’’سبلائیم بیٹھک ‘‘ جس کا اردو ترجمہ شاندار، عظیم اوربلند کا ہے۔ اس عظیم بیٹھک کے شاندار پروگرام ہر ایک دوسرے سے منفرد و بلند ہوتاہے۔ اس تنظیم کے روح رواں ہمہ جہت شخصیت ، معروف استاد، بہترین شاعر، ادیب اور مشہور ٹی وی ہوسٹ، کمپئیر پروفیسر ارشد حسین ہیں۔ مختلف مواقع پر ان کی تنظیم محافل موسیقی اور مشاعرے کرواتی رہتی ہے گزشتہ رات عید ملن کے سلسلہ میں اسی طرح کی ایک منفرد محفل کا اہتمام کیا گیا۔ مختلف شعبہ ہائے زندگی کے پشاور کے عظیم ستارے اس محفل میں موجود تھے۔ یہ محفل ہر لحاظ سے منفرد اس لئے بھی بن گئی کہ بین المذاہب ہم آہنگی دیکھنے کو ملی کیونکہ شراکائ میں ہندو، مسلم اور عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے احباب پروگرام میں بھرپور حصہ لیا۔ ممتاز ہندوسکالر اورخدمت گار جناب ہارون سربدیال نے اپنے اور اپنے سماجی و ماحولیات کے لئے خدمات کے بارے میں بتایا۔انہوں نے موسیقی کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ موسیقی ہمارے روحانی طربیعت کرتی ہے ہمارے حواس خمسہ اگر اپنے کام سے دائیں بائیں ہوں تو موسیقی کی لہریں ان کی جو تان ہے اور موسیقی میں جو رس گھلاہواہے وہ ہماری تمام تر توجہ کو واپس اکٹھا کر دیتی ہے۔ کئی مسلمان فنکاروں کے ساتھ ساتھ ایک عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے موسیقار اور گلوکار سلمان ارشاد جو پیشے کے اعتبار سے استاد ہیںاور کالج میںحساب کے لیکچررہیں لیکن طبلہ بجانے کے بہت شوقین ہیں اور اب طبلہ اور ہارمونیم بجانے میں خوب مہارت حاصل کی ہوئی ہے اس پر اور مزے کی بات کہ ان کی آواز بھی بہت خوبصورت ہے۔ انہوں نے چند پرانی غزلیں سناکے محفل لوٹ لی۔محفل موسیقی کے ساتھ ساتھ مشاعرہ نے اس محفل کو چارچاندلگائے۔ پشاورکی مٹی سے جنم لینے والے ہمارے صوبہ خیبر پختونخوا بلکہ ملکی سطح کے شعرائ کرام نے حصہ لیا ان میں پروفیسر ناصر علی سید،  مشتاق شباب،  پروفیسر صبیح احمد، اختر سیماب، صوفی دانشور اقبال سکندر،  ٹی وی پروڈیوسر عزیز اعجاز اور پروفیسر نذیر تبسم کے علاوہ کئی شعرائ نے اپنے خوبصورت کلام حاضرین کو سناکر خوب داد وصول پائی۔  امید ہے اس طرح کی محافل سجتی رہیں گیں اور ہمارے صوبہ کے لوگ اس سے مستفید ہوتے رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں