اسلامی دنیا کا پہلا ایٹم بم

 پاکستان کا ایٹامک بم دراصل ایک اسلامی بم ہے یا اسلامی دنیا کے لئے ایک ابتدائ ہے۔ اس سلسلہ میں کئی کتابیں لکھی جاچکی ہیں اورایک کتاب بہت پہلے منظر عام پر آچکی ہے جس کا عنوان ہی ’’اسلامک بم ‘‘ہے۔ اس کتاب میں اس بم کے بنانے کی پوری کہانی ہے ۔یہ کسی ایک کے ذہن کی اختراع نہیں یہ ایک حقیقت ہے، بلکہ قدرت نے ایسے حالات پیداکئے کہ اس اسلامی بم کی تخلیق ہوئی ہے ۔اس کی ابتدائ ایسے ہوتی ہے کہ اسلامی دنیا کسمہ پرسی کی زندگی گزاررہے تھے اقوام متحدہ تو بنی ہوئی تھی مگر وہ صرف اور صرف چند مفاد پرستوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے ، اس بظاہر جنگوں کی روک تھام کے لئے بنائے جانے والے ادارے کا اصل مقصد غریب اور کمزور ملکوں پر مسلسل دبائو ڈالا جائے یا پھران پرچڑھ دوڑا جائے، مسلم ممالک اس ساری پلاننگ اس سارے کھیل کی کہانی کو تقریباً سمجھ رہے تھے لہٰذہ وہ ایک ایسے شخص کی تلاش میں تھے کہ جو اسلامی ممالک کو انکا گمشدہ وقار لوٹادے۔ایسے میں ایک چھوٹے اور غریب ملک کے وزیر اعظم نے ان دنیاوی خدائوں کے سامنے ایک قرارداد پھاڑ کر اقوام متحدہ کے فرش پر دے ماری، پھر اسی سلسلہ کی کڑی پاکستان میں ہونے والے اسلامی ممالک کی گول میز کانفرنس تھے کہ جس میں اسلامی ممالک کے سربراہان نے تمام تر بے سروسامانی کے باوجود اس ملک کو نہ صرف میزبانی کا شرف بخشا بلکہ اس میں بڑی تعداد میں شرکت بھی کی۔ اب اسے کوئی حسن اتفاق کہے یا کچھ اور کہ اس رہنما ئ کے دور میں مڈل ایسٹ کے دروازے پاکستانی ہنر مندوں کے لئے کھل جاتے ہیں اور قیمتی زرمبادلہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں پاکستان آنا شروع ہوجاتا ہے، پھر اسے بھی شاید اتفاق ہی کہا جائے کے عین اسی وزیر اعظم کے دور میں محسن پاکستان ڈاکٹر قدیر خان پاکستان آتا ہے اور آکر اس جدید ٹیکنالوجی کے حصول کا عندیہ دیتا ہے یوںپاکستان کے منتخب جمہوری وزیراعظم کے منہ سے یہ الفاظ نکلتے ہیں کہ ’’ہم گھاس کھائیں گے مگر ایٹم بم ضروربنائیں گے‘‘۔

پاکستان اس وقت بھی اپنے نازک دور سے گزررہا تھا گو کہ زرمبادلہ وطن میں آرہا تھا مگر ملک کے حالات اتنے اچھے نہیں تھے کہ ایک جہاز یا میزائل تک بنایا جاسکے ، چہ جائیکے ہم ایک جدید ترین ٹیکنالوجی کے حصول کے خواب دیکھنے لگیں۔مگر ایسا ہوا اب اس سارے پروسس کے لئے فنڈ ز کہاں سے آئے اس ساری ٹیکنالوجی کے حصول کے لئے وسائل کس نے دیئے جو ملک اب بھی زرعی ملک ہونا کہ دعویٰ کرنے کے باوجود گندم اور آٹا کے بحرانوں سے نبردآزمانہیں ہوسکتا وہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور اس کی پرورش کیونکر کرسکتا ہے۔

ستر کی دھائی میںایک منتخب وزیراعظم کو پھانسی دے دی جاتی ہے مگر ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کی کوششیں جوں کی توں جاری رہتی ہیں، ایک آمر گیارہ سال تک وطن پر قابض رہتاہے ، سیاست دانوں اور ان کے اداروں کی اینٹ سے اینٹ بجادی جاتی ہے تاہم اس سب کے ساتھ ساتھ ایٹمی پروگرام کے لئے کوشش پر ہرج نہیں آتا۔  روس افغانستان پر چڑھائی کردیتا ہے ، امریکہ کی لوجسٹک سپورٹ سے بڑھ کر مدد کی جاتی ہے، وہ آمر فضائی حادثے میں جاں بحق ہوجاتے ہیں عوامی حکومت آتی ہے بھٹو کی بیٹی برسراقتدار آتی ہے ایٹمی پروگرام پھر بھی جاری و ساری ہے۔اس وقت کے پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں نواز شریف کو صوبے سے مرکز میں لایا جاتا ہے سیاسی جوڑتوڑ لگے رہے لیکن ایٹم بم کے حصول کے لئے جدوجہد جاری رہتی ہے۔ بے نظیر بھٹو دوبارہ وزیر اعظم بنتی ہیں اور اپنی ہی پارٹی کے صدر کے ہاتھوں حکومت سے چلی جاتی ہیں ۔ میاں نواز شریف‘ اسلامی جمہوری اتحاد کی بجائے اکیلی مسلم لیگ کے ساتھ انتخابات لڑتے ہیں اور دوتہائی اکثریت لے کرایک بار پھر وزیر اعظم بنتے ہیں۔  ان کے اتنے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں کہ بھارت کے ایٹمی دھماکے کے چند روز بعد ہی دھماکہ کردیتے ہیں۔ امریکہ کے کہنے پر ساری دنیا ہم پر پابندیا ں لگادیتی ہے ہم ٹس سے مس نہیں ہوتے اور پھر ایک اور آمر جمہوریت پر شب خون مارتا ہے۔ لیکن اب کی بار اسلامی ممالک خاموش تماشائی نہیں بنے رہتے ایک اور منتخب وزیر اعظم کو پھانسی پر چڑھنے سے پہلے ہی پناہ دے دیتے ہیں ۔ یہ بھی حسن اتفاق ہے اور یہ فوجی کہ جس کی جان لینے کی کوشش کی گئی تھی اسے معاف کرکے جہاز میں بٹھاکر سعودی عرب بھیج دیتا ہے یہ بھی محض اتفاق ہے کہ وہ ملک اسلامی ملک ہوتاہے۔ایٹمی ٹیکنالوجی کسی ملک کو دیئے جانے کاانکشاف ہوتا ہے اور پھر جو ملک اظہار جرم کرتاہے وہ بھی حسن اتفاق سے اسلامی ملک ہوتاہے ۔

 یہ محض اتفاقات کی کہانی نہیں بلکہ اس بم کی بننے کے لئے سارے اسلامی ممالک نے پاکستان کی مدد کی یوں یہ ایک غریب ملک کے لئے عزت و آبروسے جینے کا سبب بنا اور اسلامی ممالک کے لئے بھی۔ امید ہماری قوم اسی طرح قربانیاں دیتی رہے گی اور اس ٹیکنالوجی کو مزید ترقی دے کر اسے نہ صرف پاکستان بلکہ ساری اسلامی دنیا کے لئے بجلی بنانے و دیگر فوائد کے لئے بھی کوشاں رہے گی۔ اسلامی ایٹم بم زندہ باد اورپاکستان پائندہ باد ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں