محبت باری تعالیٰ

لائبہ قیصر

آج کل جیسا ہمارے اردگرد ماحول بنا دیا گیا ہے جہاں کہیں بھی محبت لفظ ادا کیا جاتا ہے وہیں سوچ نامحرم پر آ رکتی ہے یا ذہن فوراً برے خیال کی طرف جاتا ہے۔ ایسا ہونا بھی ہماری ہی غلطی ہے ہم نے دنیا کو عارضی سمجھے کے بجائے اسے دائمی سمجھ لیا ہے اس لیے ہماری زندگیوں کی اولین ترجیح جو صرف ہمارے پیارے رب العزت کی ہونی چاہیے تھی اب وہاں ہماری ترجیحات بدل چکی ہیں۔ جہاں ہمیں صرف ہمارے اللّٰہ جلٗ و اعلیٰ کی محبت کافی تھی وہیں ہمیں لوگوں کی محبت نے اپنا گرویدہ بنا لیا۔ جہاں ہمیں اس کائنات کے خالق و رازق سے محبت کرنی چاہیے تھی وہیں ہم نے حرام محبتیں پال لیں۔

جہاں ہمیں جنت الفردوس میں رب العالمین کے دیدار سے محبت ہونی تھی وہیں ہم نے آج اپنے ذہنوں میں لاحاصِل خواہش کو جنم دے رکھا ہے۔ اور انجام میں وہی ہے کہ ہماری رسی ڈھیلی ہوچکی ہے۔ آئے دن ترقی پر ترقی اور کامیابی پر کامیابی حاصل کرکے ہم پھر بھی بے سکون ہیں وجہ آج میں بتاتی ہوں آپ کو اس سب کی وجہ اپنے دلوں کو فضول کاموں میں لگا لینا ہے بجائے رب کی یاد کے۔ ابھی بھی وقت ہے لوٹ آئیں تاکہ کہیں ہماری رسی کھینچی نہ جائے اور پھر سوائے دکھ کے اور کچھ ہمارے ہاتھ میں نہ آئے ۔ اللّٰہ پاک ہمارے دلوں کو اپنی محبت میں ڈوبا ہوا رکھیں اور ہمیں لاحاصل ہی خواہش سے بچا لیں آمین آمین یارب العالمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں