“براہیمی نظر پیدا بڑی مشکل سے ہوتی ہے”

تحریر: مہناز ناظم

حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالی کےجلیل القدر پیغمبر تھے۔ آپ کی پوری زندگی اطاعت خداوندی اور اقامت دین کی کوششوں سے عبارت ہے۔ آپ کی اللہ سے محبت اور خلوص ایسا مثالی تھا کہ قرآن پاک میں بھی اسے انسانوں کے لیے مثال بنا کر پیش کیا گیا ہے۔
“تم سب کے لئے ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں اچھا نمونہ ہے”(الممتحنہ۔ 4)
حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک مشرک قوم میں پیدا ہوئے آپ نے اپنے آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کے بجائے خدا کی دی ہوئی عقل و فہم کو استعمال کیا اور غور و فکر کے ذریعے اپنے رب اور خالق کائنات کو پہچانا۔ آپ نے حق اور باطل میں فرق کو پہچانا اور لوگوں کو بھی اس کی دعوت دی۔
اللہ تعالی نے آپ کو جان، مال، عزت، دولت، اولاد غرض ان تمام چیزوں کے معاملے میں آزمایا جو انسان کو بے حد عزیز ہوتی ہیں لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام اطاعت خداوندی کے لیے اس قدر یکسو تھے کہ جب آپ کی قوم نے ایک اللّٰہ کی عبادت کرنے کے جرم میں آگ میں ڈالنے کی سزا دی تو بھی آپ نے اپنے موقف سے سر مو انحراف نہ کیااور بے خوف و خطر سزا کے لیے تیار ہو گئے۔
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

اس وقت رحمت الہی جوش میں آئی اور آگ کو حکم ہوا کہ ابراہیم کے لیے سلامتی بن جا اور آپ کا بال بیکا نہ ہوا ۔
اس کھلی نشانی پر بھی کفار قبول حق پر آمادہ نہ ہوئے تو آپ نے حکم خداوندی کے تحت ملک ،قوم ، دولت اور خاندانی وجاہت کو خیرباد کہہ دیا اور ہجرت کی راہ اپنائی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام ملک ملک گھومے اور لوگوں کو خدائے واحد کی بندگی کی دعوت دی عراق، مصر، شام سے ہوتے ہوئے بالاخر فلسطین کو اپنا ٹھکانہ بنایا۔
آپ نے پوری عمر دین حق کی تبلیغ میں گزار دی ۔آپ اپنی ذات میں ایک امت تھے۔
“واقعہ یہ ہے کہ ابراہیم اپنی ذات سے ایک پوری امت تھے اللّٰہ کے مطیع فرمان اور یکسو وہ کبھی مشرک نہ تھے”۔(سورہ نحل)
اخیر عمر میں اللہ تعالی نے آپ کو اولاد سے نوازا ،حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش پر اللہ تعالی نے حکم دیا کہ اپنے نوزائیدہ بچے اور اس کی ماں کو عرب کے صحرا میں چھوڑ آئیں آپ نے فوراََ تعمیل کی اور حضرت اسماعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ علیہ السلام کو عرب کے لق و دق صحرا میں تنہا چھوڑ آئے اس موقع پر اولاد کی محبت بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم الہی پر عمل سےنہ روک سکی۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام جب چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو اللہ کی طرف سےحضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اللہ کی راہ میں اپنے بیٹے کو قربان کر رہے ہیں کیونکہ نبیوں کا خواب سچا ہوتا ہے اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے اللّٰہ تعالٰی کا حکم جانا اور اپنے بیٹے کو قربانی کے لیے لے گئے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی سراپا اطاعت تھے انھوں نے بے چون و چرا سر تسلیم خم کر دیا۔
حق تعالی کو تو دراصل امتحان مقصود تھا اللہ تعالی نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک دنبہ قربانی کے لیے بھیج دیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کو قبول فرمایا۔
اللہ تبارک و تعالی نے ان تمام آزمائشوں میں پورا اترنے پر اپنے نبی کو مقام بلند عطا فرمایا اور ان کو خلیل اللہ کا لقب ملا۔

اللّٰہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا دوست بنالیا تھا (سورہ النساء 125)
اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو عرب میں مکہ کے مقام پر خانہ کعبہ کی تعمیر کا حکم دیا اور اس کو تمام انسانوں کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا مرکز بنا دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے دنیا بھر کے انسانوں کو اس گھر کے طواف کو حکم دیا جو وحدت خداوندی کی نشانی اور اس کی طرف دعوت کا مرکز بنا۔ اسی مقام پر نبی آخرالزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا آپ نے سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے اللہ کے دین کی تبلیغ کی اور محض تئیس برس کے عرصے میں ریاست مدینہ کی صورت میں دین اسلام کا نفاذ کیا جو بعد میں پوری دنیا میں اسلام پھیلانے کا ذریعہ بنا۔
آج بھی دنیا بھر سے فرزندان توحید خانہ کعبہ کا حج کرنے آتے ہیں اور سنت ابراہیمی پر عمل کرتے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت کی یاد تازہ کرتے ہیں گویا اس پر عمل کا عہد کرتے ہیں اور دلوں میں اللہ کی اطاعت اس کی محبت، دین حق کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کا بے لوث جذبہ لے کر پلٹتے ہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر سے ہر سال لاکھوں مسلمان حج کرنے جاتے ہیں مگر پھر بھی دنیا کے حالات نہیں بدلتے اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد ہونے کے باوجود مسلمان زوال کا شکار ہیں اور اسلام کسی بھی خطے میں نافذ نہیں ہو سکا حالانکہ تبلیغ کے ذرائع بھی بہت ہیں بہت سی آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں فاصلے سمٹ گئے ہیں مہینوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہو جاتا ہے علم تک ہر فرد کی رسائی ممکن ہے مگر کمی ہے تو یکسوئی کی وہ یکسوئی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس تھی جس کی بدولت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں قربانی اور خدا کی مکمل اور بے لوث اطاعت کا جذبہ پیدا ہوا اور جس کا ذکر قرآن پاک میں ان الفاظ میں ہے کہ
“میری نماز ،میری قربانی، میرا جینا ،میرا مرنا ،رب العالمین کے لیے ہے۔”
آج دنیا کی آسائشیں، رنگینیاں اور خود ہماری اپنی خواہشات نفس ہمیں اس عظیم مقصد اقامت دین سے غافل کیے دے رہی ہیں جس کے تحت بحیثیت امت مسلمہ ہمیں بھیجا گیا۔ غیر قوموں کی تقلید نے ہماری خودی کو ناکارہ کر دیا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی حیثیت کو اپنی اہمیت کو پہچانا حق اور باطل کے فرق کو جان کر خواہشات نفس کو قربان کرکے اپنے رب کی رضا کا راستہ اپنایا۔ آج ہمیں اسی یکسوئی کی ضرورت ہے مگر
براہیمی نظر پیدا بڑی مشکل سے ہوتی ہے
ہوس چُھپ چُھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں

اپنا تبصرہ بھیجیں