’’بت شکن ‘‘  ڈاکٹر برکی کی واپسی

سومنات کا مندر اتنا بڑا تھا کہ ہندوستان کے سب راجے اس کے لئے جاگیریں وقف کرتے،  اپنی بیٹیوں کو خدمت کے لئے وقف کرتے، جو کہ ساری عمر کنواری رہتیں اور انہیں دیوداسیاں کہا جاتا،  ہر وقت 2000 برہمن پوجا پاٹ کرنے کے لئے حاضر رہتے اور 500 گانے بجانے والی خوبصورت عورتیں اور 300 قوال ملازم تھے۔  سومنات کے بت کی چھت 56 ستونوں پہ قائم تھی وہاں مصنوعی یا سورج کی روشنی کا بندوبست بالکل بھی نہیں تھا بلکہ ہال کی قندیلوں میں جڑے اعلیٰ درجے کے جواہرات روشنی مہیا کرتے تھے۔  سلطان محمود غزنوی بت شکن سونے و چاندی کے چھوٹے چھوٹے بتوں کو روندنے کے بعد بادشاہ بت کے سامنے جا کھڑے ھوئے۔  اسی دوران شہر کے معزز سمجھے جانے والے ہندوؤں نے منہ مانگی مال و دولت کی پیش کش کی کہ سومنات کے بادشاہ بت کو کچھ نا کہیں،  تو سلطان محمود غزنوی  کے دیسی دانشوروں نے مشورہ دیا کہ پتھر کو توڑنے کا کیا فائدہ جبکہ مال و دولت مسلمانوں کے کام آئے گا ۔  سلطان محمود غزنوی نے دیسی دانشوروں کی بات سُن کر کہا کہ ”اگر میں نے تمہاری بات مان لی تو دنیا اور تاریخ مجھے بت فروش کہے گی جبکہ میری چاہت یہ ہے کہ دنیا و آخرت میں مجھے محمود بُت شکن کے نام سے پکارا جائے”۔  یہ کہتے ہی محمود بُت شکن کی توحیدی غیرت جوش میں آئی اورہاتھ میں پکڑا  ہوا گُرز سومنات کے دے مارا،  اس کا منہ ٹوٹ کر دور جا گرا،  پھر سلطان کے حکم پہ اس کے دو ٹکڑے کئے گئے تو اس کے پیٹ سے اس قدر بیش بہا قیمتی ھیرے، جواھرات اور موتی نکلے کہ جو ہندو معززین اور راجوں کی پیش کردہ رقم سے 100 گنا زیادہ  تھا ۔

کچھ اس طرح کی کہانی ہمارے صوبہ کے سرکاری ہسپتالوں کی ہے یہاں بھی ملک وقوم کے ٹیکس کے پیسے پانی کی طرح بہائے جارہے تھے بڑے اور سرکاری لوگ تو مزے کررہے تھے جبکہ خیبر پختونخوا جیسے غریب صوبہ کے عوام کے لئے پیناڈال کی گولی تک نہیں ملتی تھی لیبارٹری اورایکسرے وغیرہ کی مشینیں ہمہ وقت خراب پڑی ملتیں یوں ہسپتال میں بیٹھے بڑے بڑے پروفیسر ڈاکٹر مہنگے ٹیسٹ لکھ کر ہسپتال کے باہر انہی کی لیبارٹریوں سے کروانے کا مشورہ دیتے جس سے بظاہر مفت علاج ہورہاہوتا لیکن درحقیقت ٹیسٹوں پر ہزاروں روپے لگ جاتے اور ان سب کا کمیشن ہسپتال کے عملہ کو ملتاتھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈبگری گارڈن کلچر پروان چڑھتارہا کہ اگر فوری اور اچھا علاج چاہئے تو پروفیسر ڈاکٹر صاحب کے پرائیویٹ کلینک میں شام کو ڈبگری گارڑن میں آجائو۔ وہاں پر سن صفر کی لگی ہوئی مشینیں بھی ایسے کام کررہی ہیں جیسے کل ہی خریدی ہوںمجال ہے کہ ان کی کارکردگی میں کبھی کوئی فرق آئے۔ ڈبگری گارڈن اور اسی طرح کی دیگر پرائیویٹ کلینکس وغیرہ میں کسی قسم کی نرسنگ سسٹم نہیں تھا لیکن پرائیویٹ کمرہ بھی مل جاتا تھا اور ہر قسم کی ادویات بھی بروقت مل جاتی تھیں کیونکہ آپ نے پیسے بھاری مقدار میں اور بروقت جمع کروائے ہوتے تھے۔ سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والا دیگر عملہ بھی جن میں لیب ٹیکنیشن ، وارڈاردلی، مالی ، کمپیوٹر آپریٹر، آپریشن تھیٹر کا عملہ ڈبگری گارڈن انہی سپیشلسٹ ڈاکٹروں کے ساتھ انہی کے کلینک میں ملازمت کررہے ہیں۔  لہٰذہ ڈاکٹروں کے علاوہ عملہ بھی سرکاری ہسپتال میں کام کرنے سے گریزاں تھے اور مشینوں کی خرابی کا بہانہ بناکر فارغ بیٹھے رہتے۔

پھر یوں ہوا کہ 2013ئ کے انتخابات میں خیبر پختونخوا کی عوام نے پاکستان تحریک انصاف کوتبدیلی کے لئے ووٹ دیا یوں صحیح معنوں میںایک مسیحا آیا اور اس نے سرکاری ہسپتالوں میں گویا انقلاب برپا کردیا۔ ڈاکٹر نوشیروان برکی نہ صرف امریکہ میں ایک منجھے ہوئے سپیشلسٹ ڈاکٹر ہیں بلکہ شوکت خانم ہسپتال جیسے سٹیٹ آف دی آرٹ شفاخانہ بناکر چلانے کا تجربہ بھی رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی خدمات خیبر پختونخوا کے عوام کو بلامعاوضہ مہیا کیں وگرنہ اس جیسے کنسلٹنٹ کروڑوں رپوں میں ہماری سابقہ حکومتیں حاصل کرچکیں ہے اور ان کے مشوروں سے فائدہ کی بجائے نقصان ہو اتھا۔ تاہم ڈاکٹر نوشیروان برکی نے خود پاکستان آکر یہاں کے معاملات کو بھرپور طریقے سے سٹڈی کیا اور ایک ایسا جامع پلان بنایا کہ بڑے بڑے برج زمین بوس ہوگئے۔  خیبر پختونخواکے دارلحکومت پشاور کے سب سے بڑے تینوں ہسپتالوں نے چند برسوں میں ہی عوام کی حقیقی معنوں میں خدمت کرنی شروع کردی۔  اب آپ دیکھیں تو ہر ہسپتال میں ہر ایک مشین کام کررہی ہے اور ٹیسٹ ہسپتال کے اندر ہی ہوجاتے ہیں ۔  میں پورے وثوق سے بتارہاہوںکہ اس وقت پاکستان کے بڑے پرائیویٹ ہسپتالوں میں جو جدید مشینیں لگی ہیں وہی مشینیں پشاور کے سرکاری ہسپتالوں میں بھی لگی ہیں  اب ان لوگوں کے بنائے ہوئے سومنات کے سارے بت ڈاکٹر برکی نے توڑ دیئے ہیں اور اب صوبہ بھر کے غریب عوام جدید ترین صحت کی سہولیات سے مستفید ہورہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں