جواب جمع نہ کروانے پر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور راجا خرم نواز پر 20، 20 ہزار روپے جرمانہ

اسلام آباد (سی این پی )الیکشن ٹریبونل اسلام آباد نے جواب جمع نہ کروانے پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور راجا خرم نواز پر 20، 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کرتے انہیں آئندہ سماعت سے قبل بیان حلفی دوبارہ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔اسلام آباد الیکشن ٹریبونل کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری نے اسلام آباد کے 3 حلقوں میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدواروں کی درخواستوں پر سماعت کی۔جسٹس طارق محمود جہانگیری نے شعیب شاہین کو الیکشن ٹریبونل کے لیے طریقہ کار پڑھنے کی ہدایت کی۔

وکیل شعیب شاہین کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا کہ الیکشن ٹریبیونل نے 6 ماہ میں الیکشن اپیلوں پر فیصلہ کرنا ہوتا ہے، ٹربیونل نے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنی ہے، 7 دن سے زیادہ کی تاریخ نہیں دینی۔جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ریمارکس دیے کہ ٹریبونل کے پاس شو کاز نوٹس جاری کر کے رکنیت معطل کرنے کا بھی اختیار ہے، اگر التوا ہوگا تو ایک لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا، ٹرائل بھی روزانہ کی بنیاد پر ہوگا، یہ بنیادی اصول ہے۔

الیکشن ٹربیونل نے مسلم لیگ (ن) کے کامیاب امیدواروں سے دوبارہ بیان حلفی طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آئندہ سماعت سے پہلے بیان حلفی جمع کرائیں، پہلے بیان حلفی آئیں گے پھر ہم آگے دیکھیں گے۔الیکشن ٹریبونل نے ریمارکس دیے کہ تینوں درخواستوں کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہوگی تاہم ہر حلقے کی الگ الگ سماعتیں ہوں گی۔

ٹریبونل نے راجہ خرم نواز کو فارم 45 اور 47 سمیت مکمل جواب جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے بروقت جواب جمع نہ ہونے پر ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا، ٹریبونل نے جرمانے کی رقم تین روز میں جمع کروانے کا حکم دیا۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے وکیل سردار تیمور نے اپنا وکالت نامہ واپس لے لیا، الیکشن ٹریبیونل نے ریمارکس دیے کہ آپ جب تک وکالت نامہ جمع نہیں کرواتے تب تک آپ دلائل نہیں دے سکتے۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے مؤقف اپنایا کہ وکیل کی خدمات حاصل کرنی ہیں، بہت زیادہ ریکارڈ ہے، اس لیے جواب جمع کروانے کے لیے وقت دیا جائے۔الیکشن ٹربیونل نے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری پر بھی جواب جمع نہ کروانے پر 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کرتے ہوئے پرسوں تک جواب جمع کروانے کا حکم دے دیا۔الیکشن ٹریبونل نے این اے 48 میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے درخواست پر سماعت 9 جولائی، این اے 47 میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے درخواست پر سماعت 10 جولائی جب کہ این اے 46 میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے درخواست پر سماعت 11 جولائی تک ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں