بڑھتی عمر میں ملٹی وٹامنز کا یومیہ استعمال زندگی بڑھانے میں مددگار نہیں ، تحقیق

اسلام آباد (سی این پی )ایک طویل مگر منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ عام تصور کے برعکس ملٹی وٹامنز ادویات جنہیں طاقت کی ادویات بھی کہا جاتا ہے، وہ زندگی بڑھانے میں مددگار ثابت نہیں ہوتیں۔جاما نیٹ ورک میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکی ماہرین نے 4 لاکھ سے زائد رضاکاروں پر 30 سال تک تحقیق کی اور ان پر ملٹی وٹامنز کے استعمال کے فوائد اور نقصانات کا جائزہ لیا۔

تحقیق میں شامل رضاکاروں کی عمریں 18 سے 74 برس کے درمیان تھیں، تاہم زیادہ تر رضاکار طویل العمر تھے اور ان میں نصف خواتین بھی شامل تھیں۔ماہرین نے تمام رضاکاروں کو تین گروپوں میں تقسیم کیا، جس میں سے ایک وہ گروپ جس نے کبھی ملٹی وٹامنز کا استعمال نہیں کیا، دوسرا وہ گروپ جو کبھی کبھار ملٹی وٹامنز استعمال کرتا تھا جب کہ تیسرا گروپ یومیہ مختلف ملٹی وٹامنز استعمال کرتا تھا۔

تحقیق کے آغاز میں ماہرین نے تمام رضاکاروں سے ان کی خوراک، طرز زندگی، بیماریوں اور صحت کے دیگر مسائل سے متعلق دریافت کیا اور یہ بھی دیکھا کہ کتنے افراد کینسر یا امراض قلب سمیت دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں۔بعد ازاں ماہرین نے کچھ رضاکاروں کو 20 جب کہ بعض کا 27 سال بعد دوبارہ جائزہ لیا اور اس وقت تک 4 لاکھ میں سے ایک لاکھ 30 ہزار کے قریب افراد مر چکے تھے۔

ماہرین نے مرنے والے افراد میں بیماریوں اور ملٹی وٹامنز کی وجہ سے ہونے والی تبدیلیوں کو نوٹ کیا اور نتیجہ اخذ کیا کہ بڑھتی عمر میں ملٹی وٹامنز کا یومیہ استعمال زندگی بڑھانے میں مددگار نہیں ہوتا، البتہ بعض افراد کو ملٹی وٹامنز صحت کے کچھ فوائد دے سکتے ہیں۔نتائج حیران کن انکشاف بھی سامنے آیا کہ بعض افراد میں ملٹی وٹامنز قبل از وقت موت کے خطرے کو 4 گنا تک بڑھا سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ممکنہ طور پر جو افراد صحت مند ہوں گے اور ان کے جسم اور خون میں طاقت موجود ہوتی ہوگی، ان افراد کے لیے ملٹی وٹامنز نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں اور بعض بیماریوں کے دوران بھی ملٹی وٹامنز کا استعمال نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

مجموعی طور پر تحقیق سے ثابت ہوا کہ ملٹی وٹامنز یا طاقت کی ادویات زندگی بڑھانے میں مددگار نہیں ہوتیں، البتہ مذکورہ ادویات بعض افراد کو صحت کے کچھ فوائد دے سکتی ہیں جب کہ بعض کے لیے نقصان دہ بھی ہوسکتی ہیں۔عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ ملٹی وٹامنز صحت کے لیے بہتر ہوتی ہیں اور یہ زندگی بڑھانے میں بھی مدگار ہوتی ہیں لیکن تحقیق سے ایسا کچھ معلوم نہیں ہوا۔

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں