45

قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کا عمل مذاکرات پر اثرانداز ہوسکتا ہے،افغان طالبان

کابل(سی این پی) ترجمان طالبان سہیل شاہین نے افغان حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کا عمل مذاکرات پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں سہیل شاہین نے لکھا کہ مذاکرات میں تاخیر کسی کے مفاد میں نہیں، معاہدے کے تحت تمام مطلوب قیدیوں کی جلد رہائی ہونی چاہیے۔ترجمان افغان طالبان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت کو جو فہرست دی ان میں تمام قیدی سیاسی ہیں، تمام قیدیوں کو دوحہ امن معاہدے کے مطابق افغان حکومت کو رہا کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے تاریخی معاہدے میں طے پایا تھا کہ طالبان اور افغان حکومت آپس میں قیدیوں کی رہائی عمل میں لائیں گے جس پر عمل کیا جارہا ہے۔فریقین کی جانب سے مرحلہ وار قیدیوں کو رہا کیا جارہا ہے۔ اب تک تین ہزار سے زائد جنگجو رہا کیے جاچکے ہیں جبکہ طالبان نے بھی سیکڑوں افغان فورسز اور پولیس اہلکاروں کو آزاد کردیا ہے۔

قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کا عمل مذاکرات پر اثرانداز ہوسکتا ہے،افغان طالبان” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں