114

پگڈنڈیاں—–مجھےکیا ہوا تھا میڈم؟—-ڈاکٹر رابعہ تبسّم

ڈاکٹر رابعہ تبسّم

مجھےکیا ہوا تھا میڈم؟

سکولوں میں کھیلوں کی سرگرمیاں عروج پر تھیں۔طالبات ذو ق و شوق سے ان میں حصہ لے رہی تھیں۔انفرادی سکول کی سطح پردو ٹیموں کیلئے جو لڑکیاں کھیلتی تھیں ان میں سے بہترین کھلاڑیوں کو دوسرے سکولوں کے ساتھ مقابلے کیلئے منتخب کیاجاتا تھا جو کہ ظاہر ہے گیمز کی ٹیچر کیلئے بھی ایک مشکل مرحلہ ہوتا اور کھلاڑی لڑکیوں کیلئے بھی کیونکہ ہر لڑکی کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ فائنل مقابلے تک ٹیم کا حصہ رہے۔مگر ظاہر ہے کہ 12 میں سے صرف 6 کو ہی آخری مقابلے کیلئے میدان میں اترنا ہوتا تھا-
ایسے ہی ایک موقع پر نیٹ بال کی ٹیم کیلئے کھلاڑیوں کے چناؤ میں اس وقت گمیز کی ٹیچرکو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جب ایک لڑکی ٹیم کا حصہ بننے کیلئے ضد پر اتر آئی جبکہ اس کا کھیل اس معیار کا نہ تھا کہ اس کو ٹیم کا حصہ بنایا جاتا۔ ایک مسئلہ یہ بھی کھڑا ہو گیا کہ اگر اسکو شامل نہ کیا جاتا تو پریکٹس کیلئے کھلاڑی کم پڑ جاتیں اور پریکٹس میں رکھا جاتا تو ٹیم میں شامل ہونے کے امکانا ت کم ہو جاتے۔
کھیل کے اصولوں کے مطابق کسی کھلاڑی کا نام فائنل لسٹ میں شامل ہو جائے تو دوران کھیل اس کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ایسا صرف اس صورت ممکن تھا کہ کھلاڑی کو کوئی چوٹ لگ جائے یا وہ بے ہوش وغیرہ ہو جائے۔گیمز ٹیچر نے مسئلے کا حل یہ نکالا کہ اس لڑکی کو کہا کہ ٹھیک ہے تم کھیلو لیکن تمھاری شمولیت کا حتمی فیصلہ کپتان کر ےگی اور کپتان سے کہا کہ جب کھیل شروع ہو جائے تو اسے دھکا دے کر گرا دینا۔باقی ہم سنبھال لیں گے۔
چنانچہ اگلے روز صبح جب کھیل کا آغاذ ہوا تو اس لڑکی نے اونگیاں بونگیاں مارنی شروع کر دیں۔ طے شدہ پروگرام کے تحت اسکو گرا دیا گیا۔سب لوگ بھاگ کھڑے ہوئے ۔شور مچ گیا کہ لڑکی کر گئی ہے۔اسکو چوٹ لگ گئی ہے۔لڑکیوں نے شور مچا دیا کہ میڈیم یہ تو بے ہوش ہو گئی ہے۔ریفری نے سیٹی بجائی کھیل روک دیا گیا ۔ ساتھی لڑکیوں نے بھاگم بھاگ اسے ٹانگوں اور بازؤں سے پکڑ کر اٹھا یااور لا کر ‘Sick Room’ میں ڈال دیا۔اور میری ڈیوٹی لگا دی گئی کہ اس کی ‘ دیکھ بھال’ کرنی ہے۔
وطن عزیز میں بھی ایسی ہی گیمز کھیلی جا رہی ہیں۔یہ ہر کوئی اپنی ٹیم کی جیت کیلئے نت نئے حربے استعمال کر رہا ہے۔ایک ٹیم کے کھلاڑی دوسری ٹیم کے کھلاڑیوں کو ہاتھوں پاؤں سے باندھ کر بیمار ،بیمار بہت بیمار کراتنا غوغا مچا رہے ہیں کہ جہاں بے روزگار نوجوانوں ،ہڑتالی ڈاکٹروں اور اساتذہ کے احتجاج کی آوازیں دب جاتی ہیں۔ مہنگائی اور زائد بلوں کی شکایات صدا بصحراہو جاتی ہیں اور بیماروں کو ملک کے بہترین ڈاکٹروں کی نگرانی میں ‘Sickroom’ میں بند کر دیتے ہیں تو میرے سامنے زاہدہ کے آنسو،حسرت بھری آنکھیں اور رنجیدہ چہرہ آ کھڑا ہوتا ہے کہ جب ہم دونوں ‘Sick room’ کی کھڑکی سے میچ دیکھ رہے تھے۔اس کے ہاتھ پاؤں بال کی ہر ‘Move’ کے ساتھ حرکت کر رہے تھے ۔
آخر ہماری ٹیم ریکارڈ گولوں کے ساتھ چیمپئن ٹرافی جیت گئی۔آخری سیٹی کے ساتھ ہی سارا سکول گراؤنڈ میں امنڈ آیا۔میں اور زاہدہ دیوانہ وار دروازے کی طرف لپکے۔مگر یہ کیا جونہی اس نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی حیرت اور رنج سے اسکا رنگ مزید زرد پڑ گیا۔ کیونکہ دروازہ باہر سے بند تھا۔اس نے پر نم آنکھوں سے چلاتے ہوئے مجھ سے سوال کیا۔میڈم مجھے ہوا کیا تھا؟مجھے کیوں ٹیم سے نکالا گیا؟مجھے کیوں یہاں بند کیا گیا؟اس سے پہلے کہ میں اسکے کسی سوال کا جواب دیتی ۔وہ زمین پر گر پڑی اور سچ مچ بے ہوش ہو گئی اور اس کی حالت سے بے خبر باہر لوگ فتح کا جشن منا رہے تھے ۔

4 تبصرے “پگڈنڈیاں—–مجھےکیا ہوا تھا میڈم؟—-ڈاکٹر رابعہ تبسّم

  1. مصنفہ نے نیٹ بال کھیل کی کہانی کو بطور استعارہ استعمال کرتے ہوئے عصر حاضر کی منا فقانہ ریشہ دوانیوں اور مصایب وآلام سے دوچار پاکستانی عوام کی حقیقت پر مبنی صورتحال کی عکاسی عمدہ انداز سے ہے بحیثیت ایک مسلم پاکستانی ہم سب کے لئے۔۔۔۔۔لمحہء فکریہ ہے ! مدینہ کی ریاست کیا ایسی ہوتی ہے؟

  2. مجھے کیا ھوا تھا میڈم ؟ ایک عمدہ خیال ھے جو ملکی حالات کی عکاسی کرتا ھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں