43

حضرت علی کرم اللہ وجھہ——تحریر حفصہ اکبرساقی

من کنت مولا،،، فہذا علی مولا
حجة الوداع کے موقع پر سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر لوگوں سے پوچھا کیا میں مسلمانوں کو ان کی جان سے بڑھ کر عزیز ہوں؟؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں ! فرمایا جس کو میں جان سے عزیزہوں علی اس کا دوست ہے ۔ جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا !!
واہ علی مولا آپ کی شان مبارک جس کا ثناخواں خود ذات نبوت ہو۔ جس کی آنکھوں کو لعاب محبی نصیب ہوا ،جس کا گھر نبی کا گھر جس کی تلوار ذوالفقار، جس کی بیوی سیدة النساء، جس کی اولاد نبی کی آل،جس کو دونوں جہانوں میں رحمة للعالمین کی رفاقت نصیب ہوئی !!
جب پیدا ہوئے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود تشریف لاکر انہیں اسم علی عطافرمایا۔ بچپن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت خدیجہ الکبری کی آغوش محبت میں گزار ۔ 11 سال کی عمر میں اسلام قبول کیاحضرت خدیجہ کے بعد سب سے پہلے اور تبلیغ میں اپنے چچا زادبھائی ، پرورش کرنے والے مربی آقا و مولا کا ساتھ دیا ۔فرمایا میری آنکھیں آشوب چشم سے دکھتی ہیں ٹانگیں ضعف کی وجہ سے پتلی ہیں عمر میں بھی کم ہوں مگر اے صاحب صفا آپ کا ساتھ آخری دم تک دوں گا۔یہاں تک کہ بائیس سال کی عمر میں ہجرت کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے بستر پر سلا کر گئے جہاں موت کا پہرا تھا۔مواخات مدینہ کے موقع پر حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک مہاجر کو کسی نا کسی انصاری کا بھائی بنایا علی کرم اللہ وجھہ کی آنکھیں بھیگ گئیں فرمایا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے مجھے کسی کا بھی بھائی نہیں بنایا؟؟ امام المرسلین نے فرمایا “علی تو میرا بھائی ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی”
ایک اور موقع پر فرمایا علی کیا تم اس پر راضی نہیں کہ میرے لیے تم ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لے ہارون؟؟
سبحان اللہ!! داماد رسول ، سبحان اللہ!! شیر خدا خیبر شکن !!! قناعت جس کا لباس تھا فقر جس کی حالت تھی علم جس کا غلام تھا ، دین جس کی وراثت تھی، بیٹے جس کے جنت کے سردار تھے!! شجاعت جس کے گھر کی لونڈی تھی! جن کے ہاتھوں سے مرنے والے بہادروں پر لواحقین بھی رویا نہ کرتے تھے کہ اگر علی رضی اللہ کے ہاتھوں سے مرے ہیں تو چھوٹی بات نہیں (عمرو ابن عبدوو) ۔
” لا فتی الا علی ولا سیف الا ذوالفقار ”
وہ جس نے قلعہ خیبر کے دروازے کو آن کی آن میں اکھاڑدیا۔ جس سے خود خالق کائنات مالک یوم الدین کی ذات اقدس سرگوشی کرے (رواہ جابر ) ۔جس کی دامادی کے لیے خود جبرئیل آمین ساتواں آسمان سے اتر کر وحی لے کر آئے ۔جس سے محبت کرنے کے لیے رب ذولجلال والاکرام اپنے حبیب کو حکم دے کہ اے محمد میں علی سے محبت کرتا ہوں آپ بھی ان سے محبت کریں ۔
جس کے ایثار کو اللہ نے قرآن کی آیت بنا دیا
“ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا و یتیما و اسیرا ”
اور جو اللہ کی محبت میں مسکینوں یتیموں اور اسیروں کو کھانا کھلاتے ہیں
اعزاز تو اور بھی ، امتیاز تو اور بھی ہیں مگر ان کے فضائل و مناقبت پر لکھنے بیٹھیں تو دفتروں کے دفتر بھر دیئے جائیں مگر ان کا حق ادا نا ہو سکے۔
من عاجزم من بے کسم ۔
عجز و انکساری ، فقیری و پیری کا یہ عالم کہ بیٹے محمد بن حنفیہ نے پوچھا ‘بابا رسول اللہ کے بعد سب سے افضل انسان کون ہے؟ فرمایا ابوبکر ۔ پوچھا ان کے بعد ، فرمایا عمر ، پھر بیٹے نے سوچا اب عثمان کہہ دیں گے سو سوال کیا ان کے بعد تو آپ ہی افضل ہیں ناں؟؟ فرمایا “ما انا رجل من المسلمین ” نہیں میں تو بس مسلمانوں میں عام سا انسان ہوں۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد چوتھے خلیفہ بنے فتنوں اور گروہ بندیوں کا مقابلہ کیا۔ ستراں رمضان المبارک کو خوارج ملعم نے مسجد کوفہ میں زہر آلود تلوار سے وار کر کے شدید زخمی کردیا۔ اپنے بیٹوں کو نصیحت کی بیٹا میرے قاتل کے علاوہ کسی کی جان نہ لینا اسے اتنا ہی زخم دینا جتنا اس نے مجھے دیا۔ بیٹا چست اور ہو شیار بننا ، سست اور کاہل نا بننا۔بلآخر جانبر نہ ہو سکے اور اکیس رمضان المبارک کو روح انوری قفل جسدی سے آزاد ہو کر اپنے دائمی رفیق کے پاس چلی گئی ۔
سلام علیک یا علی المرتضی
سلام علیک یا امیر المؤمنین
سلام علیک یا امام المتقین و السلام یا حجة اللہ یا ولی اللہ و صلی اللہ علی محمد و آلہ محمد

حضرت علی کرم اللہ وجھہ——تحریر حفصہ اکبرساقی” ایک تبصرہ

  1. موجودہ حالات میں سرجیکل ماسک کی اہمیت
    ‌السلام و علیکم ‍!
    محترم مدیر!
    جیسا کہ ملک میں آج کل بحران کی صورت حال سے سب واقف ہیں جس کی وجہ کورونا ہے اور ہر شخص اِس وبا ) کورونا) سے پریشان اور ڈرا ہوا ہے، اِس صورت حال ‏میں عوام کو اِس سے خوفزدہ ہونے کی بجائے احتیاط کرنے کی ضرورت ہے.اِس سے بچنے کے لیے جگہ جگہ روڈوں پر ٹھیلوں میں لوگ سرجیکل ماسک کی خریدوفروخت کر رہے ہیں جو بظاہر تو ایک اچھی چیز نظر آتی ہے لیکن اِس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اس ٹھیلے پر طرح طرح کے لوگ آ کر ماسک خریدتے ہیں اور پہن کر چیک بھی کرتے ہیں.اس ٹھیلے پر اگر کوئی شخص جو اِس وبا کا پہلے سے شکار ہے ، وہ آ کر ماسک خریدتا ہے تو اسکی وجہ سے عام عوام میں یہ مرض پھیلنے کا بہت زیادہ خدشہ ہے۔
    چونکہ ماسک کا بظاہر تعلق چہرے سے ہے اور یہ ناک اور منہ میں جراثیم جانے سے روکتا ہے ، اگر یہی ماسک پہلے سے ان جراثیم کو اپنے ساتھ لگائے ہوئے ہے جو اِس بیماری کا سبب بنتے ہیں تو عوام اِس سے بچنے کی بجائے خود ہی موت کو اپنے گلے لگا رہی ہے۔
    میری حکام بالا سے یہ گزارش ہے کہ اِس کے خلاف ایکشن لیا جائے اور یہ ماسک صرف مستند جگہوں مثلاً اچھے میڈیکل اسٹورز یا حفاظتی کیمپس سے ہی عوام کو فراہم کیے جائیں۔
    ​​

اپنا تبصرہ بھیجیں